تدخل مکة ]١٩٥٤[(٧٠) وان قال انت طالق غدا وقع علیھا الطلاق بطلوع الفجر الثانی]١٩٥٥[(٧١) وان قال لامرأتہ اختاری نفسک ینوی بذلک الطلاق او قال لھا
سنن للبیہقی ، باب الطلاق بالوقت والفعل ج سابع ،ص ٥٨٣، نمبر ١٥٠٩٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ شرط پر معلق کرے تو شرط جب تک نہ پائی جائے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
]١٩٥٤[(٧٠)اور اگر کہا کہ تجھے طلاق ہے کل تو اس پر طلاق واقع ہوگی صبح صادق کے طلوع ہونے سے۔
تشریح وجہ صبح صادق سے شروع ہوکر شام تک کو غد کہتے ہیں ۔اس لئے غد یعنی کل پر طلاق معلق کی اور کوئی نیت نہیں کی تو اول وقت پر طلاق واقع ہوگی۔یعنی صبح صادق کے وقت طلاق واقع ہو جائے گی۔البتہ دن کے کسی اور حصے کی نیت کرے تو چونکہ اس کا احتمال رکھتا ہے اس لئے دیانت کے طور پر اس کی تصدیق کی جائے گی۔
( تفویض طلاق کا بیان )
ضروری نوٹ یہاں چار مسئلے ہیں (١) اختاری نفسک،اس صورت میں عورت نے شوہر کو چھوڑ کراپنے آپ کو اختیا کیا تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی۔لیکن مجلس ہی میں طلاق دے سکتی ہے مجلس کے بعد نہیں۔کیونکہ اختاری کا لفظ کنایہ ہے،اور کنایہ سے طلاق بائنہ واقع ہوتی ہے (٢) دوسرا لفظ ہے طلقی نفسک،اس صورت میں عورت نے اپنے آپ کو طلاق دی تو طلاق رجعی واقع ہوگی۔کیونکہ اس میں طلاق صریح ہے۔لیکن یہ بھی مجلس کے ساتھ خاص ہوگی۔
وجہ کیونکہ اس صورت میں عورت کو طلاق کا مالک بنایا ہے وکیل نہیں بنایا ہے۔اور وہ مجلس کے ساتھ خاص ہوتا ہے (٣) تیسرا لفظ ہے امرک بیدک، اس صورت میں بھی عورت نے اپنے آپ کو طلاق دی تو طلاق رجعی واقع ہوگی اور مجلس کے ساتھ خاص ہوگی۔اس کاحکم اور طلقی نفسک کا حکم ایک ہے (٤) اور چوتھا لفظ ہے کہ کسی اور آدمی سے کہا کہ طلق امرأتی ،تو اس میں دوسرے آدمی کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا وکیل بنایا ہے۔اس لئے اس کی توکیل مجلس کے ساتھ خاص نہیں ہوگی بلکہ مجلس کے بعد بھی طلاق دینے کا اختیار ہوگا۔البتہ چونکہ طلاق صریح ہے اس لئے اس کے طلاق دینے سے طلاق رجعی واقع ہوگی۔تفصیل آگے آرہی ہے۔
]١٩٥٥[(٧١) اگر اپنی بیوی سے کہا اپنے آپ کو اختیار کرلے اور اس سے طلاق کی نیت کی،یا کہا کہ اپنے آپ کو طلاق دیدے تو اس کے لئے اختیار ہے کہ اپنے آپ کو طلاق دیدے جب تک اس مجلس میں ہے۔پس اگر اس مجلس سے کھڑی ہو گئی یا کسی اور کام میں لگ گئی تو اس کے ہاتھ سے اختیار نکل جائے گا۔
تشریح کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے آپ کو اختیار کرلے ،یعنی اختیار کرکے جدا کر لے۔اور اس کہنے سے شوہر نے بیوی کو طلاق دے دینے کا اختیار دیا۔یا کہا کہ اپنے آپ کو طلاق دے لے تو مجلس میں رہنے تک اختیار کرنے کا اور طلاق دینے کا اختیار رہے گا اس کے بعد نہیں۔چنانچہ اگر وہ اس مجلس سے اٹھ کر کھڑی ہوئی یا کسی اور کام میں لگ گئی جس کو بھی مجلس بدلنا کہتے ہیں تو اس سے عورت کا اختیار ختم ہو جائیگا۔