علیھا واحدة عند ابی حنیفة رحمہ اللہ وقالا تقع ثنتان]١٩٥١[(٦٧) وان قال لھا انت طالق بمکة فھی طالق فی الحال فی کل البلاد]١٩٥٢[(٦٨) وکذلک اذا قال لھا انت طالق فی الدار ]١٩٥٣[(٦٩) وان قال لھا انت طالق اذا دخلت بمکة لم تطلق حتی
ہوںگی۔ اور غیر مدخول بہا پر ایک ساتھ دو طلاقیں دیں تو دونوں واقع ہوتی ہیں۔
]١٩٥١[(٦٧)اگر بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے مکہ میں تو فی الحال طلاق واقع ہوگی تمام شہروں میں۔
تشریح یہ جملہ بولنے کے دو طریقے ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ طلاق کو مکہ میں داخل ہونے کی شرط پر معلق کرے۔اس صورت میں اگر مکہ مکرمہ میں داخل ہوگی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ داخل ہونے کی شرط پر معلق نہ کرے بلکہ بغیر شرط کے کہے کہ تم کو مکہ میں طلاق ہے تو چونکہ شرط پر معلق نہیں کیا اس لئے مکہ مکرمہ سے باہر بھی کسی شہر میں ہوگی تو فورا طلاق واقع ہو جائے گی۔
وجہ اگر طلاق کو شرط پر معلق نہ کرے تو طلاق کسی شہر کے ساتھ خاص نہیں ہوتی بلکہ ہر جگہ واقع ہوتی ہے۔اس لئے ہر جگہ واقع ہوگی اور فورا واقع ہوگی۔
]١٩٥٢[(٦٨)ایسے ہی اگر کہا کہ تجھے طلاق ہے گھر میں۔
تشریح اگر بیوی کو کہا کہ تجھے طلاق ہے گھر میں توچونکہ گھر میں داخل ہونے کی شرط پر معلق نہیں کیا تو فورا ہی طلاق واقع ہوگی ۔چاہے گھر میں داخل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
وجہ دونوں مسئلوں کی دلیل یہ اثر ہے۔عن الحسن فی الرجل یقول لامرأتہ انت طالق الی سنة قال یقع علیھا یوم قال (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٢٢ فی الرجل یطلق امرأتہ الی سنة متی یعق علیھا ج رابع، ص ٧١، نمبر ١٧٨٨٢ مصنف عبد الرزاق ، باب الطلاق الی اجل ص ٣٨٧ نمبر ١١٣١٧)اس اثر میں ہے کہ سال تک پر طلاق دی توچونکہ سال آنے پر معلق نہیں کیا اس لئے اسی دن طلاق واقع ہوگی۔اسی طرح گھر اور مکہ میں داخل ہونے پر معلق نہیں کیا تو فورا طلاق واقع ہوگی۔
]١٩٥٣[(٦٩)اگر بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے تو مکہ میں داخل ہو، تو نہیں طلاق ہوگی یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہو جائے۔
تشریح مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی شرط پر طلاق کو معلق کیا تو داخل ہونے سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ کیونکہ داخل ہونے کی شرط پر طلاق کو معلق کیا اس لئے اس سے پہلے واقع نہیں ہوگی (٢) اثر میں ہے۔سئل عطاء عن رجل قال لامرأتہ انت طالق اذا ولدت أیصیبھا بین ذلک ؟ قال نعم ولا تطلق حتی یاتی الاجل (ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب الطلاق الی اجل،ج سادس، ص ٣٨٦ نمبر ١١٣٠٨٫ مصنف ابن ابی شیبة ٢٣ من قال لا یطلق حتی یحل الاجل ج رابع ص ٧٢، نمبر ١٧٨٨٧
حاشیہ : (الف) حضرت حسن نے فرمایا کوئی آدمی اپنی بیوی سے کہے تجھ کو طلاق ہے ایک سال تک تو اس پر اسی دن طلاق واقع ہوگی جس دن کہا(ب) حضرت عطاء سے پوچھا،کوئی آدمی اپنی بیوی سے کہے تجھے طلاق ہے جب تم کو بچہ پیدا ہو تو کیا اس درمیان عورت سے وطی کر سکتا ہے ؟ فرمایا ہاں ! طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک وقت نہ آجائے یعنی بچہ نہ پیدا ہو جائے۔