قال واحدة بعدھا واحدة وقعت علیھا واحدة]١٩٤٨[(٦٤) وان قال لھا انت طالق واحدة بعد واحدة]١٩٤٩[(٦٥) او مع واحدة او معھا واحدة وقعت ثنتان ]١٩٥٠[ (٦٦) وان قال لھا اذا دخلت الدار فانت طالق واحدة وواحدة فدخلت الدار وقعت
ایک طلاق واقع ہوئی اور بعد والی بیکار گئی۔
]١٩٤٨[(٦٤) اور اگر کہے تجھے طلاق ہے ایک ایک کے بعد تو طلاق واقع ہوگی دو ۔
وجہ ٹکا کر طلاق دی ایک لیکن یہ ٹکی ہوئی طلاق ایک طلاق کے بعد ہے تو چونکہ ٹکی ہوئی طلاق سے پہلے ایک طلاق ہوئی تو یہ طلاق ٹکی ہوئی کے ساتھ ہو جائے گی اور ملکر دو واقع ہوگی۔اثر اور دلیل گزر چکی ہے۔
]١٩٤٩[(٦٥)یا ایک کے ساتھ ،یا اس کے ساتھ ایک تو واقع ہوگی دو۔
تشریح ان دونوں صورتوں میں شوہر نے ٹکا کر جو طلاق دی ہے اس کے ساتھ ایک اور ہو گئی ۔اس لئے مل کر دو واقع ہوگی۔
وجہ گزر چکی ہے۔ان ابن عباس وابا ھریرة و عبد اللہ بن عمر سئلوا عن البکر یطلقھا زوجھا ثلاثا فکلھم قالوا لا تحلوا لہ حتی تنکح زوجا غیرہ (الف) (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی طلاق التی لم یدخل بھا ج سابع ،ص ٥٨١، نمبر ١٥٠٨٣ مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق البکر،ج سادس، ص ٣٣٣ نمبر ١١٠٧١)
]١٩٥٠[(٦٦) اگر عورت سے کہا اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو ایک طلاق اور ایک طلاق ۔پس داخل ہوئی گھر میں تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک واقع ہوگی اس پر ایک اور صاحبین نے فرمایا واقع ہوگی دو۔
تشریح اس صورت میں شرط کو مقدم کیا ہے بعد میں دو طلاقیں جدا جدا دی ہیں ۔اور دونوں کے درمیان حرف عطف واو ہے۔ اور واو کبھی جمع کے لئے آتا ہے اور کبھی ترتیب کے لئے آتا ہے۔اگر ترتیب کے لئے ہو تو دونوں طلاقیں جدا جدا ہوئیں اس لئے امام ابو حنیفہ نے یہاں ترتیب کی رعایت کرتے ہوئے پہلی طلاق واقع کی اور دوسری کا محل باقی نہیں رہا اس لئے ایک ہی طلاق واقع ہوئی ۔
وجہ طلاق دینا مبغوض ہے اس لئے ترتیب اور جمع میں شک ہونے کی وجہ سے ایک ہی طلاق واقع کرنا اچھا ہے اور ترتیب کا اعتبار کرنا بہتر ہے۔
فائدہ صاحبین فرماتے ہیں کہ دو طلاقیں واقع ہوںگی۔
وجہ واو مطلق جمع کے لئے آتا ہے اس لئے جمع کی رعایت کرتے ہوئے دونوں طلاقیں ایک ساتھ واقع ہوںگی۔
نوٹ اگر شرط مؤخر کردے اور یوں کہے انت طالق واحدة وواحدة ان دخلت الدار تو بالاتفاق دوطلاقیں واقع ہوںگی۔
وجہ اس عبارت میں ان دخلت الدار شرط مؤخر ہونے کی وجہ سے پہلی دونوں طلاقوں کو جمع کر دیا اس لئے دونوں ایک ساتھ واقع
حاشیہ : (الف) حضرت ابن عباس،ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمر سے باکرہ کے بارے میں پوچھا کہ شوہر اس کو تین طلاقیں بیک وقت دے تو سب نے فرمایا کہ شوہر کے لئے حلال نہیں ہے جب تک دوسرے شوہر سے شادی نہ کرے۔