Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

118 - 448
]١٩٤٤[(٦٠) وان قال لھا انت طالق واحدة وواحدة وقعت علیھا واحدة ]١٩٤٥[(٦١) ولو قال لھا انت طالق واحدة قبل واحدة وقعت علیھا واحدة ]١٩٤٦[(٦٢) وان قال لھا واحدة قبلھا واحدة وقعت علیھا ثنتان]١٩٤٧[(٦٣) وان 

طالق انت طالق فانھا تبین بالاولی والثنتان لیستا بشیء (الف) (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی طلاق التی لم یدخل بھا ،ج سابع، ص ٥٨٢، نمبر ١٥٠٨٧ مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق البکر ج سادس ص ٣٣٣ نمبر ١١٠٧٠ مصنف ابن ابی شیبة ١٩ فی الرجل یقول لامرأتہ انت طالق ج رابع ،ص ٧٠، نمبر ١٧٨٧١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ جدا جدا طلاق دے تو پہلی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی اور باقی بیکار جائیںگی۔
]١٩٤٤[(٦٠) اگر بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے ایک اور ایک تو اس پر واقع ہوگی ایک۔  
وجہ  چونکہ پہلے ایک کہا تو پہلی ہی طلاق میں غیر مدخول بھا بائنہ ہو کر چلی جائے گی اور بیوی باقی نہیں رہے گی۔اس لئے اگلی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
]١٩٤٥[(٦١)اگر عورت سے کہا تجھے طلاق ہے ایک ، ایک سے پہلے تو واقع ہوگی ایک۔  
وجہ  یہ سب مسئلے اس اصول پر متفرع ہیں کہ غیر مدخول بہا کو ایک ساتھ دو طلاق واقع ہو جائیں تو دونوں واقع ہوںگی۔اور اگر جدا جدا دینے کی شکل پیدا ہو جائے تو ایک طلاق واقع ہوگی اور دوسری طلاق بیکار ہوگی۔ اس صورت میں کہا تجھے ایک طلاق ہے تو وہ واقع ہو گئی اور دوسری واقع ہونے کا موقع نہیں رہا ۔اور چونکہ جدا جدا واقع ہوئی اس لئے ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔   
اصول  ایک ساتھ دو ہوں تو دو نوں واقع ہوںگی،اور جدا جدا ہوتو پہلی واقع ہوگی۔
]١٩٤٦[(٦٢)اگر کہا اس کو طلاق ہے ایک اس کے پہلے ایک تو واقع ہوگی اس پر دو۔  
تشریح  قاعدہ یہ ہے کہ شوہر جس طلاق کو ٹکا کر دینا چاہتا ہے اس طلاق سے پہلے ایک ہو جائے تو چونکہ زمانۂ ماضی میں واقع نہیں ہوئی تو ساتھ ہوکر دو واقع ہو جائیںگی۔اور جس طلاق کو ٹکا کر دینا چاہتا ہے اس کے  بعد ایک ہو تو ٹکائی طلاق واقع ہوگی اور بعد والی طلاق کا محل باقی نہیں رہے گا اس لئے وہ واقع نہیں ہوگی۔عبارت کے مسئلے میں ٹکا کر ایک طلاق دینا چاہتا ہے اور اس سے پہلے ایک دینا چاہتا ہے تو دونوں ساتھ ہو جائیںگی اور دو طلاق واقع ہو جائیںگی۔اور جو طلاق ٹکا کر دینا چاہتا ہے اس کے بعد ایک ہو تو ٹکی ہوئی طلاق واقع ہوگی اور بعد والی کا محل باقی نہیں رہے گا۔
]١٩٤٧[(٦٣) اور اگر کہا ایک اس کے بعد ایک تو واقع ہوگی اس پر ایک۔  
وجہ  یہاں ٹکا کر ایک دینا چاہتا ہے اور اس کے بعد ایک ہے تو ٹکی ہوئی طلاق واقع ہوئی اور اس کے بعد والی کا محل باقی نہیں رہا اس لئے ٹکی ہوئی 

حاشیہ  :  (الف) حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ کوئی آدمی بیوی کو صحبت سے پہلے تین طلاقیں دے تو فرمایا اس کے ہاتھ میں عقد تھا جس کو ایک ساتھ چھوڑ دیا۔اور اگر یکے بعد دیگرے دیتا تو کچھ حرج نہیں ہے۔اور حضرت سفیان نے تتری کے معنی بتایا کہ ترتیب کے ساتھ انت طالق، انت طالق، انت طالق کہے تو پہلی طلاق سے بائنہ ہو گی اور باقی دو کا کچھ اعتبار نہیں ۔

Flag Counter