Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

117 - 448
عبدا]١٩٤١[(٥٧)وطلاق الحرة ثلاث حرا کان زوجھا او عبدا]١٩٤٢[(٥٨) واذا طلق الرجل امرأتہ قبل الدخول بھا ثلثا وقعن علیھا]١٩٤٣[(٥٩) وان فرق الطلاق بانت بالاولی و لم تقع الثانیة والثالثة۔
 
لئے شوہر چاہے غلام ہو یا آزاد ہر حال میں وہ دو طلاقوں سے مغلظہ ہو جائے گی(٣) اثر میں ہے ۔قال علی بن ابی طالب الطلاق بالنساء والعدة بھن (الف) (موطا امام محمد باب طلاق الحرة تحت العبد ص ٢٥٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ طلاق اور عدت میں عورت کا اعتبار ہے گا۔
]١٩٤١[(٥٧)آزاد عورت کی طلاق تین ہیں اس کا شوہر آزاد ہو یا غلام۔  
تشریح  آزاد عورت کو زیادہ سے زیادہ تین طلاق دے سکتے ہیں۔ اسی سے وہ مغلظہ ہو جائے گی،اس سے زیادہ نہیں۔  
وجہ  اوپر اثر گزار چکا ہے کہ طلاق کا مدار عورت پر ہے ۔اس لئے عورت آزاد ہوتو تین طلاقوں سے مغلظہ ہوگی،شوہر چاہے آزاد ہو یا غلام ۔
 وجہ  آیت میں ہے۔ فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (ب) (آیت ٢٣٠ سورة البقرة ٢) اس آیت میں تیسری طلاق کا تذکرہ ہے کہ اس کے بعد حلالہ کئے بغیر حلال نہیں ہوگی۔
]١٩٤٢[(٥٨)اگر طلاق دی آدمی نے اپنی بیوی کو صحبت سے پہلے تین تو واقع ہو جائیںگی۔  
تشریح  صحبت سے پہلے بیک وقت تین طلاقیں دی تو تینوں واقع ہو جائیںگی۔اور الگ الگ کرکے دی تو پہلی سے بائنہ ہو جائے گی اور باقی دو طلاقیں بیکار جائے گی۔  
وجہ  اثر میں ہے۔ان ابن عباس وابا ھریرة وعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنھم سئلو عن البکر یطلقھا زوجھا ثلاثا فکلھم قال لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ (ج) (سنن للبیہقی،باب ماجاء فی طلاق التی لم یدخل بھا ج سابع، ص ٥٨١، نمبر ١٥٠٨٣ مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق البکر ج سادس ص ٣٣١ نمبر ١١٠٦٤ مصنف ابن ابی شیبة ١٩ فی الرجل یقول لامرأتہ انت طالق انت طالق انت طالق قبل ان یدخل علیھا متی یقع علیھا ج رابع، ص ٧٠، نمبر ١٧٨٧١) 
]١٩٤٣[(٥٩)اور اگر جدا جدا دیں تو بائنہ ہو جائے گی پہلی ہی سے اور دوسری اور تیسری واقع نہیں ہوگی۔  
وجہ  جس عورت سے صحبت نہیں کی ہے اس پر عدت نہیں ہے اس لئے ایک طلاق پڑتے ہی بائنہ ہو کر جدا ہو جائے گی اور بیوی نہیں رہے گی۔اور جب بیوی نہیں رہی تو اگلی طلاق کیسے واقع ہوگی ؟(٢) اثر میں ہے۔عن ابن عباس فی رجل طلاق امرأتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا قال عقدة کانت بیدہ ارسلھا جمیعا واذا کان تتری فلیس شیئ،قال سفیان تتری یعنی انت طالق انت 

حاشیہ  :  (الف) حضرت علی نے فرمایا طلاق کا مدار عورتوں پر ہے۔اور عدت کا مدار بھی انہیں پر ہے(ب) پس اگر بیوی کو تیسری طلاق دی تو شوہر کے لئے حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرے(ج) حضرت ابن عباس، ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے پوچھا کہ باکرہ عورت کو اس کا شوہر تین طلاقیں دیدے؟ تو سبھی نے فرمایا وہ شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرے۔

Flag Counter