لم یقع الطلاق حتی یستمر الدم ثلثة ایام فاذا تمت ثلثة ایام حکمنا بوقوع الطلاق من حین حاضت]١٩٣٩[(٥٥) وان قال لھا اذا حضت حیضة فان طالق لم تطلق حتی تطھر من حیضھا]١٩٤٠[(٥٦) وطلاق الامة تطلیقتان وعدتھا حیضتان حرا کان زوجھا او
جاری رہے۔پس جب تین دن پورے ہو جائیں تو ہم حکم لگائیںگے وقوع طلاق کا جس وقت سے حائضہ ہوئی ہے۔
تشریح شوہر نے حیض آنے پر طلاق معلق کیا ۔پس تھوڑا سا خون آیا تو معلوم نہیں ہوگا کہ حیض کا خون ہے یا استحاضہ کا اس لئے تین دن تک انتظار کیا جائے گا ۔جب تین دن تک آیا تو پتہ چلا کہ یہ حیض کا خون ہے۔ اب طلاق کا حکم لگائیںگے۔لیکن چونکہ حیض کے پہلے ہی خون پر طلاق کا مدار تھا اس لئے پہلے خون کے وقت ہی سے مطلقہ شمار ہوگی۔
وجہ طلاق حیض پر معلق کیا ہے اور حیض کا پتہ تین دن کے بعد چلے گا اس لئے تین دن تک انتظار کیا جائے گا (٢) اثر میں ہے کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے۔سمعت خالد بن سعدان قال اقل ما تکون حیضة المرأة ثلاثة ایام وآخرھا عشرة (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٢٨١ ماقالوا فی الحیض ج رابع، ص٢٠٦، نمبر ١٩٢٩٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ کم سے کم حیض کی مدت تین دن ہے۔
]١٩٣٩[(٥٥)اگر عورت سے کہا کہ اگر تجھ کو ایک حیض آئے تو تجھے طلاق تو نہیں طلاق ہوگی یہاں تک کہ حیض سے پاک ہو جائے۔
وجہ چونکہ پورے ایک حیض آنے پر طلاق معلق کیا ہے اس لئے حیض سے پاک ہونے کے بعد طلاق واقع ہوگی۔کیونکہ عبارت میں حیضة سے مراد ایک حیض ہے۔
وجہ اثر میں ہے۔ عن الثوری قال فی رجل قال لامرأتہ اذا حضت حیضة فانت طالق او قال متی حضت فانت طالق قال اما التی قال اذا حضت فانت طالق فاذا دخلت فی الدم طلقت،واما التی قال متی حضت حیضہ فحتی تغتسل من آخر حیضتھا لانہ لایراجعھا حتی تغتسل(ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب الطلاق الی اجل ص ٣٨٨نمبر ١١٣٢١)
]١٩٤٠[(٥٦)باندی کی طلاقیں دو ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں آزاد ہو اس کا شوہر یا غلام۔
وجہ باندی کی نعمت آدھی ہوتی ہے اس لئے اس کی طلاق بھی آزاد عورت سے آدی ہوگی ۔لیکن تین طلاق کی آدھی ڈیڑھ ہوتی ہے اور طلاق ڈیڑھ نہیں ہوگی تو دو کردی گئی اس لئے دو طلاق ہوگی (٢) حدیث میں ہے ۔عن عائشة عن النبی ۖ قال طلاق الامة تطلیقتان وقروء ھا حیضتان (الف) (ابو داؤد شریف، باب فی سنة طلاق العبد ص ٣٠٤ نمبر ٢١٨٩ ترمذی شریف ، باب ماجاء ان طلاق الامة تطلیقتان ص ٢٢٣ نمبر ١١٨٢) اس حدیث سے پتہ چلا کہ باندی کی طلاقیں دو ہیں ۔اور اس میں شوہر کے غلام اور آزاد کا تذکرہ نہیں ہے۔اس
حاشیہ : (الف) حضرت خالد بن سعدان نے فرمایا عورت کا کم سے کم حیض تین دن ہے اور آخری دس دن(ب) حضرت ثوری نے فرمایا کسی نے اپنی بیوی سے کہا جب تم کو ایک حیض آجائے تو طلاق ہے۔یا کہا جب حیض آئے تو طلاق ہے۔بہر حال جب کہے کہ جب حیض آئے تو طلاق ہے تو جوں ہی خون آئے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔اور جب کہا کہ تم کو ایک حیض آئے تو طلاق ہے تو جب تک آخری حیض کا غسل نہ کرلے۔اس لئے کہ غسل سے پہلے تک رجعت نہیں کیا(ج)آپۖ نے فرمایا باندی کی طلاق دو ہیں اور اس کا قروء دو حیض ہیں(یعنی اس کی عدت دو حیض ہیں۔