نفسھا]١٩٣٦[(٥٢) مثل ان یقول ان حضت فانت طالق فقال قد حضت طلقت]١٩٣٧[(٥٣) وان قال لھا اذا حضت فانت طالق وفلانة معک فقالت قد حضت طلقت ھی ولم تطلق فلانة]١٩٣٨[(٥٤) واذا قال لھا اذا حضت فانت طالق فرأت الدم
شریح فقال قل فیھا قال وانت شاھد یا امیر المؤمنین قال نعم قال ان جاء ت ببطانة من اھلھا من العدول یشھدون انھا حاضت ثلاث حیض والا فھی کاذبة فقال علی قالون بالرومیة ای اصبت (الف) (سنن للبیہقی، باب تصدیق المرأة فیما یمکن فیہ القضاء عدتھا ج سابع، ص ٦٨٧، نمبر ١٥٤٠٥ مصنف ابن ابی شیبة ٢٨٠ من قال اؤتمنت المرأة علی فرجھا ج رابع ،ص ٢٠٦، نمبر ١٩٢٨٩) اس اثر سے پتہ چلا کہ عورت کی ذات کے بارے میں اس کی بات مان لی جائے گی۔کیونکہ حیض ختم ہونے کے بارے میں حضرت علی نے عورت کی بات مان لی (٣) آیت میں اس کا اشارہ ہے ۔ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن (ب) (آیت ٢٢٨ سورة البقرة٢) اس آیت کے اشارے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے بارے میں اس کی بات مانی جائے گی۔کیونکہ قرآن نے یوں کہا کہ عورتوں کو ان کے رحموں کے بارے میں چھپانا نہیں چاہئے۔
]١٩٣٦[(٥٢)مثلا یوں کہے اگر تجھے حیض آئے تو تم کو طلاق ہے ،پس اس نے کہا مجھے حیض آیا توطلاق واقع ہوگی۔
وجہ شوہر نے کہا کہ اگر تم کو حیض آئے تو تم کو طلاق اور عورت نے کہا کہ مجھے حیض آیا ہے تو اس کے کہنے پر اعتماد کرتے ہوئے طلاق واقع کر دی جائے گی۔
]١٩٣٧[(٥٣)اور اگر بیوی سے کہا اگر تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق اور تمہارے ساتھ فلانہ کو طلاق۔پس عورت نے کہا مجھے حیض آگیا تو اس عورت کو طلاق واقع ہوگی اور فلاں کو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
تشریح شوہر نے کہا کہ اگر تجھے حیض آئے تو تجھے بھی طلاق اور تمہارے ساتھ تمہاری شوکن رشیدہ کو بھی طلاق۔ اس کے بعد عورت نے کہا کہ مجھے حیض آگیا تو اس کہنے پر صرف اسی عورت کو طلاق واقع ہوگی اور شوکن رشیدہ کو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ عورت کو تو اس لئے طلاق واقع ہوگی کہ اس کی بات پر اس کی ذات کے بارے میں اعتماد کر کے طلاق واقع کی گئی ۔لیکن دوسرے پر طلاق واقع کرنے کے لئے مکمل گواہی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی چاہئے۔جو نہیں ہوئی اس لئے شوکن رشیدہ پر طلاق واقع نہیں ہوگی اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ دوسروں پر طلاق واقع کرنے کے لئے مکمل رکن شہادت چاہئے۔
]١٩٣٨[(٥٤)اگر عورت سے کہا کہ اگر تجھے حیض آئے تو تجھے طلاق۔پس خون دیکھا تو طلاق واقع نہیں ہوگی یہاں تک کہ خون تین دن تک
حاشیہ : (الف)حضرت شعبی نے فرمایا ایک آدمی حضرت علی کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ۔وہ دو ماہ کے بعد آئی اور کہنے لگی کہ میری عدت ختم ہو چکی ہے۔اور حضرت علی کے پاس قاضی شریح تھے تو حضرت علی نے فرمایا اس بارے میں آپ بتائیں۔ انہوں نے کہا آپۖ امیر المؤمنین گواہ ہیں؟ فرمایا ہاں ! قاضی شریح نے فرمایا اگر عورت کے اہل خانہ میں سے عادل آدمی گواہی دیں کہ تین حیض آگئے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ وہ جھوٹی ہے۔ حضرت علی نے رومی زبان میں فرمایا قالون یعنی آپ نے ٹھیک فتوی دیا (ب) اور عورتوں کے لئے حلال نہیں ہے کہ چھپائے جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا۔