کلما فان الطلاق یتکرر بتکرر الشرط حتی یقع ثلث تطلیقات]١٩٣٠[(٤٦) فان تزوجھا بعد ذلک وتکرر الشرط لم یقع شیئ]١٩٣١[(٤٧) وزوال الملک بعد الیمین لا یبطلھا]١٩٣٢[(٤٨) فان وجد الشرط فی ملک انحلت الیمین ووقع
جائے اور تین طلاق واقع ہو تب اس کا تقاضہ ختم ہوگا۔
وجہ کلما میں تکرار کے معنی ہے اس کے لئے یہ آیت ہے۔کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلودا غیرھا (آیت ٥٦ سورة النساء ٤) اس آیت میں کلما بار بار کے لئے آیا ہے کہ جب جب جہنمیوں کی کھال پکے گی اللہ ہر بار اس کی کھال کو بدل دیںگے ۔
نوٹ البتہ یہ ضروری ہے کہ بیوی ہو اور گھر میں داخل ہو تب طلاق واقع ہوگی ۔اگر بیوی نہ ہو اور شرط پائی گئی تو طلاق واقع نہیں ہوگی (٢) اثر میں ہے۔سألت الحکم وحمادا عن رجل قال لامرأتہ انت طالق کلما شئت قال الحکم کلما شائت فھی طالق (الف)(مصنف ابن ابی شیبة ٢١٦ فی رجل قال لامرأتہ انت طالق کلما شئت ج رابع ،ص ٢١٧، نمبر ١٩٠٨٤) اس اثر میں ہے کہ تین طلاق تک جب چاہے گی عورت طلاق دے سکتی ہے۔کیونکہکلما تکرار کا تقاضہ کرتا ہے۔
]١٩٣٠[(٤٦)پس اگر اس سے شادی کی اس کے بعد اور شرط مکرر ہوئی تو کچھ واقع نہیں ہوگی۔
تشریح شوہر نے کلما استعمال کیا تھا۔اس کے بعد تین مرتبہ شرط پائی گئی اور تین مرتبہ عورت پر طلاق واقع ہوئی ۔اس کے بعد عورت نے دوسرے شوہر سے شادی کی پھر اس نے طلاق دی اور اس عورت نے پہلے شوہر سے شادی کی اور چوتھی مرتبہ شرط پائی گئی تو اب چوتھی مرتبہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلماکا تقاضہ ملک اول تک ہے۔اور تین طلاق کے بعد ملک اول بالکل ختم ہو گئی اس لئے زوج ثانی کے بعد جب پہلے شوہر کے پاس آئی تو کلما کا اثر ختم ہو چکا تھا۔اس لئے اب گھر میں داخل ہونے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ ملک اول تک کلما کا تقاضہ رہتا ہے اس کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔
]١٩٣١[(٤٧)قسم کے بعد ملک کا زائل ہونا قسم کو باطل نہیں کرتا۔
تشریح قسم کھانے کے بعد مثلا بیوی کو طلاق دیدی اور ملک زائل ہوگئی پھر بھی شرط اور قسم ختم نہیں ہوگی بلکہ اگر شرط پائی گئی تو اس کا اثر ہوگا۔مثلا بیوی سے کہا تھا کہ اگر گھر میں داخل ہوئی تو طلاق،اب شوہر نے الگ سے طلاق بائنہ دے کر الگ کر دیا اس حال میں بیوی گھر میں داخل ہوئی تو شرط کا تقاضہ پورا ہو گیا ۔اب دو بارہ اس شوہر سے شادی کرے اور گھر میں داخل ہو تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
]١٩٣٢[(٤٨)پس اگر ملک میں شرط پائی گئی تو قسم پوری ہو جائے گی اور طلاق واقع ہوگی۔
تشریح اگر بیوی رہتے ہوئے شرط پائی گئی یعنی مثلا گھر میں داخل ہوئی تو طلاق واقع ہوگی اور قسم بھی پوری ہو جائے گی۔ اب اگر دو بارہ گھر میں
حاشیہ : (الف) حضرت حکم اور حماد سے پوچھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا ،تجھ کو طلاق ہے جب جب تو چاہے،حضرت حکم نے فرمایا جب جب چاہے گی طلاق واقع ہوگی۔