Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

112 - 448
ولا یصح اضافة الطلاق الا ان یکون الحالف مالکا او یضیفہ الی ملکہ]١٩٢٦[(٤٢) فان قال لاجنبیة ان دخلت الدار فانت طالق ثم تزوجھا فدخلت الدار لم تطلق ]١٩٢٧[(٤٣) والفاظ الشرط ان واذا واذاما وکل وکلما ومتی ومتی ما]١٩٢٨[(٤٤) ففی کل ھذہ الالفاظ ان وجد الشرط انحلت الیمین ووقع الطلاق]١٩٢٩[(٤٥) الا فی 

وجہ  پہلے حدیث گزر چکی ہے۔عن عمر ابن شعیب ان النبی ۖ قال لا طلاق الا فیما تملک (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی الطلاق قبل النکاح ص ٣٠٥ نمبر ٢١٩٠ ترمذی شریف ،نمبر ١١٨١)
]١٩٢٦[(٤٢) پس اگر اجنبی سے کہا کہ اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تم کو طلاق ہے۔پھر اس سے شادی کی پھر گھر میں داخل ہوئی تو طلاق نہیں ہوگی  تشریح  یہ مسئلہ اوپر کے قاعدے پر متفرع ہے کہ اگر بیوی بھی نہ ہو اور نہ شادی کی طرف منسوب کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔چنانچہ اجنبیہ عورت سے کہا کہ اگر تم گھر میں داخل ہوئی تو تم کو طلاق ہے ۔اس کے بعد اس سے شادی کی ۔اور شادی کے بعد وہ اس گھر میں داخل ہوئی پھر بھی پچھلے قول کی وجہ سے اس کو طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
 وجہ  کیونکہ شرط پر معلق کرتے وقت نہ بیوی تھی اور نہ بیوی ہونے پر معلق کیا تھا (٢) حدیث گزر گئی۔عن علی عن النبی ۖ قال لا طلاق قبل النکاح (ب) (ابن ماجہ شریف ،ص ٢٩٣ نمبر ٢٠٤٩)
]١٩٢٧[(٤٣)عربی میں یہ الفاظ شرط کے ہیں۔ان  اور  اذا  اور  اذاما  اور  کل  اور  کلما  اور متی  اور  متی ما۔  
 تشریح  عربی میں یہ الفاظ شرط کے ہیں ۔ان سے شرط کا انعقاد ہوتا ہے۔  
وجہ  آیت میں ہے۔وان تعدوا نعمة اللہ لا تحصوھا (آیت ٣٤ سورة ابراہیم ١٤) اس آیت میں ان شرط کے معنی میں ہے ۔اذا کے بارے میں یہ آیت ہے۔اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن (ج) (ّیت ١ سورة الطلاق ٦٥) اسی پر باقی حروف کو قیاس کرلیں۔
]١٩٢٨[(٤٤)پس ان الفاظ میں اگر شرط پائی گئی تو قسم پوری ہو جائے گی  اور طلاق واقع ہو جائے گی۔  
تشریح  کلما کے علاوہ شرط کے ان الفاظ میں ایک مرتبہ شرط پائی گئی تو ایک مرتبہ طلاق واقع ہو جائے گی اور بس۔ لیکن اگر اس کے بعد دوبارہ شرط پائی گئی تو دو بارہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔  
وجہ  اس لئے کہ ان الفاظ میں تکرار اور بار بار ہونے کے معنی نہیں ہے۔ اس لئے ایک مرتبہ طلاق واقع ہو کر قسم ختم ہو جائے گی۔
]١٩٢٩[(٤٥) مگر لفظ کلما کہ اس میں طلاق مکرر ہوگی  شرط کے مکرر ہونے کی وجہ سے ،یہاں تک کہ واقع ہوگی تین طلاقیں۔  
تشریح  کلما میں تکرار کے معنی ہیں اس لئے ایک مرتبہ شرط پائی جائے اور ایک طلاق واقع ہو جائے اس پر بس نہیں ہوگا بلکہ تین مرتبہ شرط پائی 

حاشیہ  :  (ج) حضورۖ نے فرمایا جس کا مالک نہیں اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی(ب) آپۖ نے فرمایا نکاح سے پہلے طلاق نہیں(ج) اگر عورت کو طلاق دو تو عدت گزارے ایسے وقت اس کو طلاق دو۔

Flag Counter