Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

111 - 448
تزوجتک فانت طالق او قال کل امرأة اتزوجھا فھی طالق]١٩٢٤[ (٤٠)واذااضافہ الی شرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامرأتہ ان دخلت الدار فانت طالق]١٩٢٥[(٤١) 

ص ٢٢٣ نمبر ١١٨١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے (٢) عن علی ابن ابی طالب عن النبی ۖ قال لا طلاق قبل النکاح (الف)(ابن ماجہ شریف ، باب لا طلاق قبل النکاح ص ٢٩٣ نمبر٢٠٤٩)(٣) آیت میں بھی اس کا اشارہ ہے۔یا ایھا الذین آمنوا اذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن (ب) (آیت ٤٩ سورة الاحزاب ٣٣) اس آیت میں پہلے نکاح کا حکم ہے اس کے بعد طلاق کا، جس سے معلوم ہوا کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ عبد اللہ بن عباس،حضرت علی،حضرت سعید بن المسیب وغیرہ بہت سے ائمہ کے اقوال بخاری شریف میں ہیں(بخاری شریف، باب لا طلاق قبل النکاح ص ٧٩٣ نمبر ٥٢٦٩ باب ٩) جن سے معلوم ہوا کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے۔
]١٩٢٤[(٤٠)اگر طلاق کو شرط کی طرف منسوب کیا تو واقع ہوگی شرط کے بعد مثلا بیوی سے یوں کہے اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تم کو طلاق  تشریح  طلاق کو شرط پر معلق کرتے وقت بیوی ہو اور اس کو کہے کہ اگر تم گھر میں داخل ہوئی تو تم کو طلاق ہے۔یا فلاں شرط پائی جائے تو تم کو طلاق ہے،تو شرط پائی جائے گی تو طلاق واقع ہوگی۔  
وجہ  معلق کرتے وقت ملک ہے اجنبیہ نہیں ہے اس لئے معلق کرنا جائزہوگا (٢) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔عن عمر ابن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان النبی ۖ قال ... زاد ابن الصباح ولا وفاء نذر الا فیما تملک (ج) (ابو داؤد شریف ، باب فی الطلاق قبل النکاح ص ٣٠٥ نمبر ٢١٩٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نکاح کی ملکیت ہو تو نذر یا شرط پوری کی جاسکتی ہے (٢) اثر میں ہے ۔عن الحسن قال اذا قال انت طالق اذا کان کذا وکذاالامر لا یدری ایکون ام لا،فلیس بطلاق حتی یکون ذلک ،ولہ ان یطأھا فیما بین ذلک وان مات قبل ما اجل توارثا (د) (مصنف عبد الرزاق ، باب الطلاق الی اجل ج سادس ،ص ٣٨٧ نمبر ١١٣١٥ مصنف ابن ابی شیبة ٩ فی الرجل یقول لامرأتہ ان دخلت ھذہ الدار فانت طالق فتدخل ولا یعلم ج رابع، ص٦١، نمبر ١٧٧٨١ سنن للبیہقی ، باب الطلاق بالوقت والفعل ج سابع، ص ٥٨٣، نمبر ١٥٠٩٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہوگی۔
]١٩٢٥[(٤١)اور نہیں صحیح ہے طلاق کو منسوب کرنا مگر یہ کہ قسم کھانے والا مالک ہو یا اس کو اپنی ملک کی طرف منسوب کرے۔  
تشریح  طلاق کو شرط پر معلق کرنے سے اسی وقت طلاق واقع ہوگی جب معلق کرتے وقت بیوی ہو یا ابھی بیوی تو نہ ہو لیکن بیوی ہونے پر معلق کرے جیسے اوپر گزرا کہ اگر میں شادی کروں تو طلاق۔لیکن اگر ابھی بیوی نہ ہو اور نہ شادی کرنے پر معلق کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

حاشیہ  :  (الف)آپۖ نے فرمایا نکاح سے پہلے طلاق نہیں (ب)اے ایمان والو ! جب نکاح کرو مومن عورتوں سے پھر اس کو طلاق دو صحبت سے پہلے(ج) ابن الصباح نے یہ بھی زیادہ کیا نذر کا وفا نہیںمگر جس چیز کا مالک ہو (د)حضرت حسن نے فرمایا اگر کہے کہ تجھے طلاق ہے اگر ایسا ایسا ہو۔اور معاملہ کا علم نہیں کہ ہوگا یا نہیں تو طلاق نہیں ہے یہاں تک کہ وہ ہو جائے۔اور اس کے لئے جائز ہے کہ اس درمیان بیوی سے وطی کرے۔اور اگر مدت آنے سے پہلے مر جائے تو دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوںگے۔

Flag Counter