Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

110 - 448
 ]١٩٢٣[(٣٩) واذا اضاف الطلاق الی النکاح وقع عقیب النکاح مثل ان یقول ان 

ابراہیم الاخرس اذا کتب الطلاق بیدہ لزمہ وقال حماد الاخرس والاصم ان قال برأسہ جاز(بخاری شریف، با اللعان نمبر ٥٣٠٠) اس اثر میں ہے گونگے اشارے سے کہے تب بھی طلاق واقع ہوگی(٤) لکھنا بھی ایک قسم کا اشارہ ہے اور لکھنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔اس لئے اشارے سے بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔لکھنے سے طلاق واقع ہونے کی دلیل یہ اثر ہے۔عن الزھری قال اذا کتب الیھا بطلاقھا فقد وقع الطلاق علیھا فان جحد بطلاقھا استحلف (الف) (مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل یکتب الی امرأتہ بطلاقھا ج سادس ص ٤١٣ نمبر ١١٤٣٣ مصنف ابن ابی شیبة ٤١ فی الرجل یکتب طلاق امرأتہ بیدہ ج رابع، ص ٨١، نمبر ١٧٩٩٢) اس اثر میں لکھنے سے طلاق واقع ہونے کا ثبوت ہے۔ 
]١٩٢٣[(٣٩)اگر طلاق کو منسوب کیا نکاح کی طرف تو طلاق واقع ہوگی نکاح کے بعد۔مثلا یوں کہے اگر میں نے شادی کی تو تجھ کو طلاق ہے۔یا ہر وہ عورت جس سے شادی کروں اس کو طلاق ہے ۔
 تشریح  ایک تو صورت یہ ہے کہ نکاح سے پہلے ہی طلاق دے تو اس سے طلاق نہیں ہوگی۔مثلا اجنبیہ سے کہے کہ تجھ کو طلاق۔پھر دو دن بعد اس سے شادی کرے تو اجنبیہ کو طلاق واقع نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث میں اس طلاق کو کالعدم قرار دیا ہے۔لیکن نکاح کی شرط پر طلاق معلق کرے تو حنفیہ کے نزدیک طلاق واقع ہوگی۔  
وجہ  ابھی اجنبی ہونے کی حالت میں طلاق نہیں دینا ہے بلکہ بیوی ہونے کی شرط پر طلاق کیا ہے ۔اور جزا پانے پر طلاق کا انعقاد جائز ہے(٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔ان رجلا اتی عمر بن الخطاب فقال کل امرأة اتزوجھا فھی طالق ثلاثا فقال لہ عمر فھو کما قلت (ب) (مصنف عبد الرزاق ،نمبر ١١٤٧٤)عن ابراہیم قال اذا وقت امرأة او قبیلةجاز،واذا عم کل امرأة فلیس بشیء (ج)(مصنف عبد الرزاق ، باب الطلاق قبل النکاح ج سادس، ص ٤٢١ نمبر ١١٤٧١مصنف ابن ابی شیبة ١٦ من کان یوقعہ علیہ ویلزمہ الطلاق اذا وقت ج رابع، ص ٦٦، نمبر ١٧٨٣٢ کتاب الاثار لامام محمد ،باب من قال ان تزوجت فلانة فھی طالق ص ١١٠، نمبر ٥٠٨)اس اثر سے معلوم ہوا کہ نکاح پر طلاق کو معلق کرے تو شرط پانے پر طلاق واقع ہوگی۔
فائدہ  امام شافعی فرماتے ہیں کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے۔اس لئے نکاح کی شرط پر معلق کرکے طلاق دینے سے بھی واقع نہیں ہوگی۔  وجہ  حدیث میں اس کا ثبوت ہے۔ عن عمربن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان النبی ۖ قال لا طلاق الا فیما تملک ولا عتق الا فیما تملک (د)(ابو داؤد شریف، باب فی الطلاق قبل النکاح ص ٣٠٥ نمبر ٢١٩٠ ترمذی شریف، باب ماجاء لا طلاق قبل النکاح 

حاشیہ  :  (الف)حضرت زہری نے فرمایا اگر عورت کو طلاق لکھ کر بھیجے تو اس پر طلاق واقع ہوگی۔اور اگر اس کا انکار کرے تو قسم لی جائے گی(ب) ایک آدمی عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا جتنی عورت سے میں شادی کروں ان کو تین طلاق ہو۔تو حضرت عمر نے کہا اس نے جیسا کہا ویسا ہی ہوگا(ج) حضرت ابراہیم نے فرمایا اگر کسی عورت یا قبیلے کی تعیین کی تو جائز ہے۔اور اگر ہر عورت کو عام کیا تو اس طلاق کا اعتبار نہیں ہے (د) آپۖ نے فرمایا جس کا مالک نہیں اس کو طلاق نہیں۔اور جس کا مالک نہیں اس کو آزاد کرنا درست نہیں۔

Flag Counter