]١٩٢٠[(٣٦) والسکران واقع]١٩٢١[(٣٧) ویقع الطلاق اذا قال نویت بہ الطلاق ]١٩٢٢[(٣٨) ویقع طلاق الاخرس بالاشارة۔
]١٩٢٠[(٣٦)اور نشہ میں مست کی طلاق واقع ہوگی۔
تشریح اگر دوا کی وجہ سے نشہ آیا اور اس میں مست ہوکر طلاق دی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔لیکن جان بوجھ کر نشہ پیا اور اس کی وجہ سے مست ہو کر طلاق دی تو واقع ہو جائے گی ۔
وجہ اثر میں ہے۔عن مجاھد قال طلاق السکران جائز (الف) اور یہی رائے حضرت عطائ،حضرت حسن، محمد ابن سیرین ، عمر ابن عبد العزیز،حضرت ابراہیم نخعی اور سعید بن مسیب وغیرہ کی ہے (مصنف ابن ابی شیبة ٣٤ من اجاز طلاق السکران ج رابع، ص ٧٨، نمبر ١٧٩٥١ سنن للبیہقی ، باب من قال یجوز طلاق السکران وعتقہ ج سابع ،ص ٥٨٩، نمبر ١٥١١٢) ان اثروں سے معلوم ہوا کہ سکر کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہوگی۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ نشہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ (١) عقل زائل ہو چکی ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ عقل کے زائل ہونے کے بعد کسی چیز کا اعتبار نہیں ہے۔رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یحتلم وعن المجنون حتی یعقل (ب) (ابو داؤد شریف ، باب المجنون یسرق او یصیب حدا ص ٢٥٦ نمبر ٤٤٠٣) اور نشہ والے کی بھی عقل زائل ہو گئی ہے اس لئے اس کی طلاق کا اعتبار نہیں ہے (٢) اثر میں ہے ۔وقال عثمان لیس لمجنون ولا لسکران طلاق (ج) (بخاری شریف ، باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ والسکران والمجنون وامرھما ،ص ٧٩٣ نمبر ٥٢٦٩ سنن للبیہقی ، باب من قال لا یجوز طلاق السکران ولا عتقہ ج سابع، ص ٥٨٩، نمبر ١٥١١٣ مصنف ابن ابی شیبة ٣٥ من کان لایری طلاق السکران جائز ج رابع،ص ٧٩، نمبر ١٧٩٦٧ ) ان آثار سے معلوم ہوا کہ نشہ میں مست آدمی کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
]١٩٢١[(٣٧)مست آدمی طلاق کہہ کر یہ کہے کہ میں نے اس سے طلاق کی نیت کی توطلاق واقع ہوگی۔
تشریح اس عبارت کامطلب شاید یہ ہے کہ نشہ آور آدمی طلاق کا لفظ بول کر یوں کہے کہ میں نے اس سے طلاق کی نیت کی ہے تب طلاق واقع ہوگی۔باقی تفصیل کا علم نہیں ہے۔
]١٩٢٢[(٣٨) گونگے کی طلاق اشارہ سے واقع ہوگی۔
وجہ اس کا تمام کام اشارے سے ہی ہوتے ہیں ۔اس لئے طلاق بھی اشارے سے ہی واقع ہوگی۔ اس کا اشارہ ضرورت کے موقع پر کلام کے درجے میں ہے۔حدیث میں ہے۔عن سہل قال رسول اللہ ۖ انا وکافل الیتیم فی الجنة ھکذا واشار بالسبابة والوسطی وفرج بینھما شیئا (بخاری شریف ، باب اللعان ص ... نمبر ٥٣٠٤) حدیث میں انگلی کے اشارے سے قربت کو بتایا(٣) قال
حاشیہ : (الف) مجاہد نے فرمایا نشہ میں مست کی طلاق جائز ہے(ب) تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔سونے والے سے یہاں تک کہ بیدار ہو جائے،بچے سے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے اور مجنون سے یہاں تک کہ عقلمند ہو جائے (ج) حضرت عثمان نے فرمایا مجنون اور نشہ میں مست کی طلاق نہیں ہے۔