]١٩١٩[(٣٥) وطلاق المکرہ۔
]١٩١٩[(٣٥)زبردسی کئے ہوئے کی طلاق واقع ہے۔
تشریح شوہر کو طلاق دینے کے لئے زبردستی کی ۔انہوں نے مجبور ہو کر طلاق دی یہ طلاق واقع ہو جائے گی۔
وجہ ان کی دلیل یہ اثر ہے ۔عن ابراہیم قال طلاق المکرہ جائز،انما ھو شیء افتدی بہ نفسہ (الف) یہی بات حضرت شعبی،قاضی شریح،سعید بن مسیب اور ابن سیرین اور حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں(مصنف ابن ابی شیبة ٤٨ من کان یری طلاق المکرہ جائزا ج رابع، ص٨٥، نمبر ١٨٠٣٥١٨٠٣٤ مصنف عبد الرزاق ، باب طلاق الکرہ ج سادس ص ٤١٠ نمبر ١١٤١٩ ١١٤٢٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ زبردستی کرکے لی ہوئی طلاق واقع ہوتی ہے (٢) شوہر جان دینے یا طلاق دینے دونوں میں سے ایک میں مبتلا ہوا تو طلاق دینے کو اپنی صوابدید سے اختیار کیا اس لئے طلاق واقع ہوگی۔کیونکہ اپنے اختیار اور ارادے سے ایک چیز کو اختیار کیا۔
اکراہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت شریح نے فرمایا القید کرہ والوعید کرہ والسجن کرہ۔اور حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا لیس الرجل امینا علی نفسہ اذا اجعتہ او اوثقتہ او ضربتہ (ب) (مصنف عبد الرزاق، باب طلاق الکرہ ج سادس ص ٤١١ نمبر ١١٤٢٤١١٤٢٣ سنن للبیہقی ، باب ما یکون اکراھا ج سابع،ص ٥٨٨، نمبر ١٥١٠٨) اس سے معلوم ہوا کہ بھوکا رکھنا ، مارنا،قید کرنا یہ سب زبردستی کی شکلیں ہیں۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ زبردست کرکے لی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ ان کی دلیل یہ آیت ہے۔الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان (آیت ١٠٦ سورة النحل ١٦) اس آیت میں ہے کہ زبردستی کرنے کی وجہ سے زبان سے کلمۂ کفر بول دیا اور دل ایمان سے مامور ہے تو اس کے کفر اعتبار نہیں۔اسی طرح زبردستی کرنے کی وجہ سے زبان سے طلاق بول دیا اور دل میں طلاق کی نیت نہیں ہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی (٢) حدیث میں ہے۔عن ابی ذر الغفاری قال قال رسول اللہ ۖ ان اللہ تجاوز لی عن امتی الخطاء والنسیان وما استکرھوا علیہ (ابن ماجہ شریف، نمبر ٢٠٤٣) حدثتنی عائشہ ان رسول اللہ ۖ قال لا طلاق ولاعتاق فی اغلاق(ج)ابن ماجہ شریف، باب طلاق المکرہ والناسی ص٢٩٣ نمبر ٢٠٤٦ سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی طلاق المکرہ ج سابع، ص٥٨٥، نمبر ١٥٠٩٧)(٣) اثر میں ہے۔وقال ابن عباس طلاق السکران والمستکرہ لیس بجائز (د) (بخاری شریف ، باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ ص ٧٩٣ نمبر ٥٢٦٩ سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی طلاق المکرہ ج سابع، ص ٥٨٦،نمبر ١٥١٠٢)اس سے معلوم ہوا کہ زبردستی لی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حاشیہ : (الف) حضرت ابراہیم نے فرمایا زبردستی کئے ہوئے کی طلاق جائز ہے۔بات یہ ہے کہ اپنی جان کے بدلے طلاق کا فدیہ دیا (ب) حضرت عمر نے فرمایا آدمی اپنی ذات سے محفوظ نہیں ہے۔اگر اس کو تکلیف دی جائے یا باندھا جائے یا مارا جائے(ج) آپۖ نے فرمایا اللہ تعالی نے میری امت سے غلطی، بھول اور جو اس پر زبردستی کی گئی ہے ان کو معاف کیا ہے۔اور حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ حضورۖ نے کہا زبردستی میں نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ آزادگی واقع ہوگی(د) حضرت ابن عباس نے فرمایا نشہ میں مست اور زبردستی کئے ہوئی کی طلاق جائز نہیں ہے۔