فرجک او وجھک]١٩١٦[(٣٢) وکذلک ان طلق جزء شائعا منھا مثل ان یقول نصفک او ثلثک طالق]١٩١٧[(٣٣) وان قال یدک او رجلک طالق لم یقع الطلاق]١٩١٨[(٣٤) وان طلقھا نصف تطلیقة او ثلث تطلیقة کانت تطلیقة واحدة۔
النساء ٤) اور عنق بول پورا جسم مراد لینے کا ثبوت اس آیت میں ہے۔فظلت اعناقھم لھا خاضعین (الف)(آیت ٤ سورة الشعراء ٢٦) اور وجہ بول کر پورا جسم مراد لینے کا ثبوت اس آیت میں ہے۔ وعنت الوجوہ للحی القیوم (ب)(آیت ١١١ سورة طہ ٢٠) باقی کو اسی پر قیاس کرلیں۔اثر میں ہے۔عن قتادة قال اذا قال اصبعک طالق فھی طالق قد وقع الطلاق علیھا (مصنف عبد الرزاق ، باب یطلق بعض تطلیقة ج سادس ص ٣٧٣ نمبر ١١٢٥٢) اس سے انگلی کا ثبوت ہوا۔ لیکن گردن وغیرہ تو اس سے اہم عضو ہے اس سے بدرجۂ اولی طلاق واقع ہوگی۔
]١٩١٦[(٣٢) اسی طرح اگر عورت کے جزء شائع کو طلاق دی ۔مثلا یوں کہا تیرا نصف یا تیراثلث حصہ طلاق والا ہے۔
تشریح آدھا ، تہائی ،چوتھائی ان کو جزء شائع کہتے ہیں ۔ اگر عورت کے جزء شائع کو طلاق دی تو پورے جسم پر سرایت ہوگی اور پورے انسان کو طلاق واقع ہوگی۔
وجہ آدھے جسم کو طلاق واقع ہوگی تو عورت کے ہر ہر عضو کے آدھے پر طلاق واقع ہوگی اس لئے طلاق میں آدھا نہیں ہوتا پورا ہی ہوتا ہے۔ اس لئے پورے انسان کو طلاق ہوگی (٢) اثر میں ہے۔ عن الشعبی قال اذا قال انت طالق نصفا او ثلث تطلیقة فھی تطلیقة (ج) (مصنف ابن ابی شیبة ٥١ ماقالوا فی الرجل یطلق امرأتہ نصف تطلیقة ج رابع ،ص٨٧، نمبر١٨٠٥٥ مصنف عبدالرزاق،نمبر ١١٢٥١ ) اس اثر میں آدھی طلاق اور تہائی طلاق کو ایک طلاق قرار دیا۔ اسی پر قیاس کرکے آدھے انسان کو پورا انسان قرار دیا جائے گا۔
]١٩١٧[(٣٣)اور اگر کہا تیرے ہاتھ یا تیرے پاؤں کو طلاق تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ ہاتھ اور پاؤں بول کر پورا جسم مراد نہیں لیتے اس لئے ہاتھ کو اور پاؤں کو طلاق دی تو پورے انسان کو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
]١٩١٨[(٣٤) اگر عورت کو آدھی طلاق دی یا تہائی طلاق دی تو ایک طلاق واقع ہوگی۔
وجہ (١) آدھی طلاق یا تہائی طلاق مکمل طلاق ہوتی ہے (٢) اثر میں گزر چکا ہے۔قیل لعمر بن عبد العزیز الرجل یطلق امرأتہ نصف تطلیقة قال تطلیقة (د) (مصنف ابن ابی شیبة ٥١ ماقالوا فی الرجل یطلق امرأتہ نصف تطلیقة ج رابع ،ص٨٧، نمبر ١٨٠٥٣مصنف عبد الرزاق، باب یطلق بعض تطلیقة،ج سادس، ص ٣٧٣، نمبر ١١٢٥١) اس اثر میں آدھی طلاق کو پوری ایک طلاق قرار دیا۔
حاشیہ ( (پچھلے صفحہ سے آگے) آدمی کو غلطی سے قتل کیا تو ایک مؤمن غلام آزاد کرے (الف) ان کی گردیں جھک گئیں (ب) چہرے حی قیوم کے سامنے جھک گئے(ج) حضرت شعبی نے فرمایا اگر کہا تم کوآدھی طلاق یا ایک طلاق کی تہائی تو وہ ایک طلاق ہوگی(د)حضرت عمر ابن عبد العزیز سے پوچھا کوئی آدمی اپنی بیوی کو آدھی طلاق دے تو پوری طلاق ہے۔