Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

106 - 448
]١٩١٣[(٢٩) مثل ان یقول انت طالق بائن وانت طالق اشد الطلاق او افحش الطلاق او طلاق الشیطان اوطلاق البدعة او کالجبل او ملأ البیت]١٩١٤[(٣٠) واذا اضاف الطلاق الی جملتھا او الی ما یعبر بہ عن الجملة وقع الطلاق]١٩١٥[(٣١) مثل ان یقول انت طالق او رقبتک طالق او عنقک طالق او روحک طالق او بدنک او جسدک او 

تنکح زوجا غیرہ (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ٧٣ ماقالوا فی الرجل یقول لامرأتہ انت طالق واحد کاف وطالق حمل بعیر ج رابع، ص ١٠٢، نمبر١٨٢١٥)(٣) عن عائشة فی رجل طلق امرأتہ واحدة کالف قال لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ(ب) (مصنف ابن ابی شیبة ج رابع ،ص ١٠٢، ١٨٢١٦ حوالہ بالا) ان دو اثروں سے معلوم ہوا کہ شدت کے الفاظ ملانے سے طلاق مغلظہ بھی واقع ہو سکتی ہے۔
]١٩١٣[(٢٩)مثلا یوں کہے (١) تو بائنہ طلاق والی ہے (٢) تو بڑی سخت طلاق والی ہے (٣) تو بدترین طلاق والی ہے (٤) تجھ پر شیطان کی طلاق ہے (٥) تجھ پر بدعت کی (٦) یا پہاڑ کے برابر (٧) یا گھر بھرنے کے مثل طلاق ہے۔  
تشریح  ان تمام الفاظ میں طلاق کے ساتھ شدت کے الفاظ ہیں اس لئے ان سے طلاق بائنہ واقع ہوگی۔  
وجہ  دلیل اوپر اثر گزر چکا ہے۔  
فائدہ  امام شافعی فرماتے ہیں کہ طلاق مبغوض ہے اس لئے شدت کے الفاظ لگانے سے بھی طلاق رجعی ہی واقع ہوگی۔
]١٩١٤[(٣٠)اگر منسوب کیا طلاق کو کل کی طرف یا ایسے عضو کی طرف جس سے کل کی تعبیر ہوتی ہو تو طلاق واقع ہوگی۔  
تشریح  طلاق کو کل جسم کی طرف منسوب کیا یا ایسے عضو کی طرف منسوب کیا جس سے کل جسم کی تعبیر کرتے ہیں تب بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔  وجہ  آیت اور حدیث کے محاورے میں تعبیر کرنے کا انداز دونوں ہیں کہ کسی چیز کوکل کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کسی چیز کو ایسے عضو کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے پوراجسم مراد لیا جاتا ہو۔مثال اور دلیل آگے آرہی ہے۔
]١٩١٥[(٣١)مثلا یوں کہے(١) تو طلاق والی ہے(٢) تیری گردن کو (٣) تیری گردن کو (٤)تیری روح کو (٥) تیرے بدن کو (٦) تیرے جسم کو (٧) یا تیری شرم گاہ کو (٨) تیرے چہرے کو طلاق ہے۔  
تشریح  تو طلاق والی ہے اس میں پورے جسم کی طرف طلاق منسوب کی۔اور رقبتک طالق  میں اس کے ایسے عضو کی طرف منسوب کی جس سے پورا جسم مراد لیتے ہیں ۔اسی طرح دوسرے اعضاء بھی ہیں۔  
وجہ  رقبة بول کر پورا جسم مراد لینے کا ثبوت اس آیت میں ہے۔ومن قتل مؤمنا خطاء فتحریر رقبة مؤمنة (ج) (آیت ٩٢ سورة 

حاشیہ  :  (الف) حضرت علی نے فرمایا ایک آدمی نے اپنی بیوی کو حمل بعیر کی طلاق دی ۔فرمایا جب تک دوسری شادی نہ کرے پہلے کے لئے حلال نہیں (ب) حضرت عائشہ نے فرمایا کسی آدمی نے بیوی کو ہزار کی طرح ایک طلاق دی،فرمایا اس کے لئے حلال نہیں ہے جب تک دوسری شادی نہ کرے(ج) کسی (باقی اگلے صفحہ پر) 

Flag Counter