ولا یقع فیما بینہ وبین اللہ تعالی الا ان ینویہ]١٩١٠[(٢٦) وان لم یکونا فی مذاکرة الطلاق وکانا فی غضب او خصومة وقع الطلاق بکل لفظة لایقصد بھا السبُّ والشتیمة ]١٩١١[(٢٧)ولم یقع بما یقصد بھا السب والشتیمة الا ان ینویہ ]١٩١٢[ (٢٨) واذا وصف الطلاق بضرب من الزیادة کان بائنا۔
٥٢٥٤) اس حدیث میں اعوذ باللہ منک تذکرہ طلاق ہے جس کی وجہ سے الحقی باھلک سے طلاق واقع ہوئی ۔
]١٩١٠[(٢٦)اگر دونوں مذاکرہ طلاق میں نہ ہو ں لیکن غصے اور خصومت کی حالت میں ہوں تو طلاق واقع ہوگی ہر وہ لفظ سے جس سے گالی گفتار مقصود نہ ہو اور اس لفظ سے واقع نہیں ہوگی جس سے گالی گلوچ مقصود ہو۔
تشریح مذاکرہ طلاق کی حالت نہ ہو لیکن غصے اور گالم گلوچ کی حالت ہو تو جن الفاظ سے گالم گلوچ ظلاہر نہ ہوتا ہو ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جائے گی۔
وجہ اگرچہ مذاکرہ طلاق کی حالت نہیں ہے لیکن غصے اور گالم گلوچ کی حالت ہے ۔اور الفاظ ایسے ہیں کہ گالی دینے کے معنی نہیں ہے تو طلاق ہی دینے کا انداز ہو سکتا ہے۔اس لئے طلاق واقع ہو جائے گی۔
اصول یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ جن الفاظ سے یا حالات سے طلاق کا اندازہ ہوتا ہو اس سے طلاق واقع ہوگی۔
لغت السب : گالی، الشتیمة : گالی دینا۔
]١٩١١[(٢٧)اور نہیں واقع ہوگی ان الفاظ سے جن سے گالی گلوچ مقصود ہو مگر یہ کہ طلاق کی نیت کرے۔
تشریح مذاکرہ طلاق کی حالت نہیں ہے البتہ غصے کی حالت ہے اور الفاظ ایسے ہیں کہ گالی بن سکتے ہیں اس لئے ان کو گالی پر محمول کریںگے،طلاق پر محمول نہیں کریںگے اس لئے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ہاں ان الفاظ سے طلاق کی نیت کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔کیونکہ یہ الفاظ طلاق کا احتمال رکھتے ہیں۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ الفاظ کنایہ سے طلاق رجعی واقع ہوگی۔ البتہ تین کی نیت کرے گا تو تین واقع ہو جائے گی۔
]١٩١٢[(٢٨) اگر طلاق کی صفت ہو کسی زیادتی کے ساتھ تو طلاق بائن ہوگی۔
تشریح انت طالق کے ساتھ یا طلاق صریح کے ساتھ کوئی ایسا جملہ بڑھا دیا جس سے طلاق کی شدت محسوس ہوتی ہو تو اس سے طلاق رجعی کے بجائے طلاق بائنہ واقع ہو گی۔
وجہ انت طالق کی وجہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ۔اور مزید کو ئی شدت کا جملہ مثلا بائن اوربتلة ہیں ان سے طلاق میں شدت واقع ہوگی۔ اور طلاق میں شدت بائنہ سے ہوتی ہے۔اس لئے شدت کے جملے لگانے سے طلاق بائنہ واقع ہوگی۔ اور اگر اس سے تین کی نیت کرے گا تو تین واقع ہوگی۔کیونکہ اس کا احتمال رکھتا ہے (٢) اثر میں ہے ۔عن علی فی رجل طلق امرأتہ حمل بعیر،قال لا تحل لہ حتی