حرة وتقنعی واستتری واغربی وابتغی الازواج ]١٩٠٩[(٢٥) فان لم یکن لہ نیة الطلاق لم یقع بھذہ الالفاظ طلاق الا ان یکونا فی مذاکرة الطلاق فیقع بھا الطلاق فی القضاء
فاتی عمر بن الخطاب فاستحلفہ بین الرکن والمقام ما الذی اردت بقولک قال اردت الطلاق ففرق بینھما (الف) سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی کنایات الطلاق التی لا یقع الطلاق بھا الا ان یرید بمخرج الکلام منہ الطلاق ج سابع ،ص ٥٦٢، نمبر ١٥٠١٢ مصنف عبد الرزاق ، باب حبلک علی غاربک ج سادس ص ٣٧٠ نمبر ١١٢٣٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ نیت کرنے کے بعد طلاق واقع ہوگی۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ طلاق بائنہ واقع ہوگی۔تب ہی تو حضرت عمر نے تفریق کرائی۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حبلک علی غاربک الفاظ کنایہ میں سے ہے۔
اگر نیت نہ کرے تو کچھ واقع نہیں ہوگی اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن عائشة قالت خیرنا رسول اللہ ۖ فاخترنا اللہ ورسولہ فلم یعد ذلک علینا شیئا (ب) بخاری شریف ، ماب من خیر ازواجہ ص ٧٩١ نمبر ٥٢٦٢ ) مصنف عبد الرزاق ، باب اذھبی فانکحی ج سادس ص ٣٦٦ نمبر ١١٢١٤) اس حدیث میں لفظ اختیار کنایہ ہے ۔لیکن حدیث میں اس سے طلاق کی نیت ازواج مطہرات نے نہیں کی اس لئے اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
]١٩٠٩[(٢٥) پس اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی مگر یہ کہ وہ دونوں طلاق کے مذاکرے میں ہو تو طلاق واقع ہوگی قضاء ً اور نہیں واقع ہوگی فیما بینہ وبین اللہ مگر یہ کہ طلاق کی نیت کرے۔
تشریح الفاظ کنایہ بول کر طلاق کی نیت نہ کی ہو تو طلاق واقع نہیں ہوگی ۔البتہ طلاق کا ذکر چل رہاتھا اور انداز یہ تھا کہ الفاظ کنایہ بول کر طلاق دینا چاہتا ہے تو قضاء اور فیصلے کے اعتبار سے طلاق واقع ہو جائے گی۔لیکن شوہر اور اللہ کے درمیان یہی ہے کہ نیت کی ہوگی تو طلاق واقع ہوگی اور نیت نہیں کی ہوگی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
وجہ مذاکرہ طلاق کا ایک واقعہ عمرة بنت جون کا ہے کہ اس نے پناہ چاہی اور حضورۖ کو ہاتھ لگانے نہیں دیا تو آپۖ نے لفظ کنایہ فرمایا 'الحقی باھلک ' تو چونکہ مذاکرہ طلاق کا ماحول تھا اس لئے الحقی باھلک سے طلاق واقع ہو گئی۔اور یہاں طلاق دینے کی نیت بھی تھی جس کی وجہ سے طلاق واقع ہو گئی۔حدیث یہ ہے۔عن عائشة ان ابنة الجون لما ادخلت علی رسول اللہ ودنا منہ قالت اعوذ باللہ منک فقال لھا لقد عذت بعظیم الحقی باھلک (ج) (بخاری شریف ، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأتہ بالطلاق ص ٧٩٠ نمبر
حاشیہ : (الف) ایک آدمی نے اپنی بیوی سے تیری رسی تیرے کندھے پر ہے کہااور کئی مرتبہ کہا۔پھر عمر بن خطاب کے پاس آئے ۔انہوں نے اس کو رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان قسم دی کہ اپنی بات سے کیا ارادہ کیا ؟آدمی نے کہا میں نے طلاق کا ارادہ کیا۔حضرت عمر نے دونوں کے درمیان تفریق کرادی(ب) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں اختیار دیا ۔ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیاتو اس کی وجہ سے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں ہوئی(ج) حضرت عائشہ نے فرمایا بنت جون جب رخصت ہو کر حضورۖ کے پاس آئی اور حضورۖ اس کے قریب ہوئے تو کہنے لگی میں آپ کے بارے میں اللہ سے پناہ چاہتی ہوں۔آپۖ نے فرمایا تم نے بڑی ذات سے پناہ مانگی اس لئے اپنے اہل کے پاس چلی جاؤ۔