Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

103 - 448
اذا نوی بھا الطلاق کانت واحدة بائنة وان نوی ثلثا کانت ثلثا وان نوی ثنتین کانت واحدة]١٩٠٨[ (٢٤)وھذہ مثل قولہ انت بائن وبتَّة وبتلة وحرام وحبلک علی غاربک والحقی باھلک وخلیَّة و بریَّة ووھبتک لاھلک اسرحتک واختاری وفارقتک وانت 

یواجہ الرجل امرأتہ بالطلاق ص ٧٩٠ نمبر ٥٢٥٤) اور دو طلاق کی نیت کرے گا تو دو واقع نہیں ہوگی اس کی وجہ پہلے گزر چکی ہے کہ یہ الفاظ جنس کا احتمال رکھتے ہیں جس سے مجموعہ مراد ہوگی اور طلاق کا مجموعہ تین ہے اس لئے تین کی نیت کرے گا تو تین واقع ہوگی اور دو نہ فرد اقل ہے اورنہ مجموعہ ہے۔ اس لئے دو کی نیت کرے گا تو دو واقع نہیں ہوگی۔ الفاظ کنایات میں تین کی نیت کرے گا تو تین واقع ہوگی اس کے لئے یہ اثر ہے۔عن علی قال الخلیة والبریة والبتة والبائن والحرام اذا نوای فھو بمنزلة الثلاث (الف) (سنن للبیہقی ، باب قال فی الکنایات انھا ثلث ج سابع ،ص ٥٦٤، نمبر ١٥٠١٧ (٢) لفظ کنایہ بول کر تین کی نیت کرنے سے تین طلاق واقع ہوگی اس کی دلیل حضرت رفاعة کی لمبی حدیث ہے جس میں  طلقنی فبت طلاقی  کہا ہے اور  بت  لفظ کنایہ سے تین طلاق مراد لی ہے۔ حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔ان رفاعة طلقنی فبت طلاقی وانی نکحت بعدہ عبد الرحمن بن زبیر القرظی(ب) (بخاری شریف ، باب من جوز الطلاق الثلاث ص ٧٩١ نمبر ٥٢٦٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لفظ کنایہ بول کر تین طلاق مراد لی جا سکتی ہے۔(٣) عن ابراہیم فی الخلیة ان نوی طلاقا فادنی ما یکون تطلیقہ بائن ان شاء وشاء ت تزوجھا وان نوی ثلاثا فثلاث(ج) ( مصنف ابن ابی شیبة ٦٤ ماقالوا فی الخلیة ج رابع، ص ٥٦، نمبر ١٨١٤٨) اس اثر میں ہے کہ طلاق کی نیت کرے گا تو ادنی درجہ ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی اور تین کی نیت کریا گا تو تین طلاقیں واقع ہوںگی۔
]١٩٠٨[(٢٤)اور وہ الفاظ کنایہ ہیں(١) تو مجھ سے جدا ہوجا (٣٢) تیرا مجھ سے قطع تعلق ہے (٤) تو حرام ہے (٥)تیری رسی تیری گردن پر ہے (٦) تو اپنے اہل کے ساتھ مل جا (٧) تو بالکل چھوڑ دی گئی (٨) تو بالکل بری ہے (٩) تجھے تیرے عزیزوں کو ہبہ کر دیا (١٠) میں نے تجھے چھوڑ دیا (١١) خود مختار ہو جا (١٢) میں نے تجھے جدا کر دیا (١٣) تو آزاد ہے (١٤) چادر اوڑھ لے (١٥) پردہ کرلے (١٦) دور ہوجا (١٧) شوہروں کو تلاش کر لے ۔
 تشریح  یہ سب الفاظ کنایہ کے ہیںجن کے دو معنی ہیں ۔ایک معنی کی نیت سے طلاق واقع ہوگی اور کچھ نیت نہ کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔  وجہ  کچھ الفاظ کی دلیل اوپر احادیث میں آچکی ہے۔مثلا البتة ، خلیة ، بریة ، حرام اور الحقی باہلک سے طلاق ہونے کی دلیل اوپر گزر چکی ہے۔ اسی پر باقی کو قیاس کرلیں۔ایک اثر یہ بھی ہے۔ان رجلا قال لامرأتہ حبلک علی غاربک قال ذلک مرارا 

حاشیہ  :  (پچھلے صفحہ سے آگے) آپۖ اس سے قریب ہوئے تو بنت جون نے کہا اعوذ باللہ منک،تو آپۖ نے اس سے فرمایا بڑی ذات سے پناہ مانگی ہے اپنے اہل کے پاس چلی جاؤ(الف)حضرت علی نے فرمایا  خلیة، بریة ، بتة ، بائن اور حرام سے اگر نیت کرے تو وہ تین طلاقوں کے درجے میں ہیں (ب) حضرت رفاعہ نے مجھے طلاق دی تو تین طلاقیں دی اور میں نے اس کے بعد عبد الرحمن بن زبیر قرظی سے شادی کی(ج) حضرت ابراہیم نے خلیة کے باری میں کہا اگر طلاق کی نیت کی تو کم سے کم ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ۔اگر شوہر اور اس کی بیوی چاہے ۔اور اگر تین کی نیت کرے تو تین واقع ہوگی۔

Flag Counter