Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 3 - یونیکوڈ

102 - 448
واحدة وھی قولہ اعتدّی واستبریٔ رحمک وانت واحدة]١٩٠٧[(٢٣) وبقیة الکنایات 

وجہ  وجہ یہ ہے کہ ان الفاظ میں انت طالق لفظ صریح محذوف ماننا پڑے گا۔اور انت طالق سے ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اس لئے ان الفاظ سے بھی ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ مثلا اعتدی کا ترجمہ ہے عدت گزار لو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے پہلے میں نے طلاق دے دی ہے اس لئے عدت گزار لو۔عبارت یوں ہوگی انت طالق فاعتدی ۔اس لئے اعتدی کے لفظ کنایہ ہے (٢) حدیث میں ہے۔ عن ابی ھریرة ان رسول اللہ قال لسودة بنت زمعہ اعتدی فجعلھا تطلیقة واحدة وھو املک بھا (الف) (سنن للبیہقی ، باب ماجاء فی کنایات الطلاق التی لا یقع الطلاق بھا الا ان یرید بمخرج الکلام منہ الطلاق ج سابع، ص ٥٦١، نمبر ١٥٠٠٦ مصنف ابن ابی شیبة ٢٤ فی الرجل یقول لامرأتہ اعتدی ما یکون َ ج رابع ،ص ٧٢، نمبر ١٧٨٩١) اس حدیث میں ہے کہ اعتدی سے ایک طلاق شمار کی اور ھو املک بھا سے رجعی کا پتہ چلا۔ اور استبرئی رحمک کا ترجمہ ہے اپنا رحم صاف کرلو۔اس کے دو مطلب ہیں۔رحم صاف کرلو اس لئے کہ مجھے جماع کرنا ہے۔اور دوسرا ترجمہ ہے رحم صاف کرلو اس لئے کہ میں نے تم کو طلاق دے دی ہے۔اور عبارت یوں ہوگی انت طالق فاستبرئی رحمک۔اور انت طالق سے ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے۔اس لئے استبرئی رحمک سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔اور انت واحدة کا ترجمہ ہے تو اکیلی ہے۔یا تجھ کو ایک طلاق ہے ۔اور عبارت ہوگی  انت طالق تطلیقة واحدة۔اس لئے صریح لفظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔چونکہ واحدة کا لفظ موجود ہے اس لئے دو اور تین کی بھی نیت نہیں کر سکتا۔
]١٩٠٧[(٢٣)اور بقیہ الفاظ کنایات اگر نیت کرے طلاق کی تو ایک طلاق بائنہ ہوگی ۔اور اگر نیت کرے تین کی تو تین اور اگر نیت کرے دو کی تو ایک ہوگی۔  
تشریح  اوپر کے تین الفاظ کے علاوہ کنایات کے جتنے الفاظ ہیں ان میں نیت نہیں کرے گا تو کچھ واقع نہیں ہوگی۔ اور طلاق کی نیت کرے گا تو ایک طلاق بائنہ ہوگی ،طلاق رجعی نہیں۔ اور دو طلاق کی نیت کرے گا تب بھی ایک ہی طلاق واقع ہوگی دو نہیں۔ اور تین طلاق کی نیت کرے گا تو تین طلاقیں واقع ہوںگی۔  
وجہ  نیت کرنے پر ایک طلاق بائنہ واقع ہونے کی وجہ یہ اثر ہے۔عن ابراہیم قال اذا قال لا سبیل لی علیک فھی تطلیقة بائنة (ب) (مصنف ابن ابی شیبة ٣٩ فی رجل قال لامرأتہ قدخلیت سبیلک او لا سبیل لی علیک ج رابع ،ص ٨١، نمبر١٧٩٨٩ مصنف عبد الرزاق ، باب اذ ھبی فانکحی ج سادس ص ٣٦٦ نمبر١١٢١٧)اس اثر میں لا سبیل لی علیک لفظ کنایہ ہے۔ جس سے طلاق کی نیت کرنے سے حضرت ابراہیم نے طلاق بائنہ واقع کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیت کرنے سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی (٢) حدیث میں ہے کہ آپۖ نے عمرة ابنة جون کو الحقی باھلک کہا اور طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو گئی۔عن عائشة ان ابنة الجون لما ادخلت علی رسول اللہ ۖ ودنا منھا قال اعوذ باللہ منک فقال لھا لقد عذت بعظیم الحقی باھلک (ج) (بخاری شریف، باب من طلق وھل 

حاشیہ  :  (الف) آپۖ نے حضرت سودہ سے فرمایا عدت گزار لو۔پس وہ طلاق رجعی واقع ہوئی اور شوہر عورت کا مالک رہا(ب) حضرت ابراہیم نے فرمایا اگر شوہر نے کہا میرا تم پر کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ ایک طلاق بائنہ ہے (ج) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بنت جون جب رخصت ہو کر حضورۖ کے پاس آئی اور(باقی اگلے صفحہ پر) 

Flag Counter