طالق طلاقًا فان لم تکن لہ نیة فھی واحدة رجعیة وان نوی ثنتین لایقع الا واحدة وان نوی بہ ثلثا کان ثلثا]١٩٠٦[(٢٢) والضرب الثانی الکنایات ولا یقع بھا الطلاق الا بالنیة او بدلالة حال وھی علی ضربین منھا ثلثة الفاظ یقع بھا الطلاق الرجعی ولا یقع بھا الا
صرف مصدر مثلا الطلاق استعمال کرے تو مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے جیسے رجل عدل مصدر بول کر عادل مراد لیتے ہیں ۔اس لئے انت الطلاق مصدر بولا تو انت طالق اسم فاعل کے معنے میں ہوکر ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ مصدر کا دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ وہ عدد کا احتمال نہیں رکھتا ۔اس لئے مصدر بول کر عدد کی نیت نہیں کر سکتے۔ اس لئے انت الطلاق بول کر دو طلاق کی نیت نہیں کر سکتے۔ البتہ جنس کا احتمال رکھتا ہے اس لئے مجموعے کی نیت کر سکتے ہیں ۔اس لئے نیت نہ ہوتو اقل درجہ ایک مراد ہوگی اور ایک طلاق واقع ہوگی۔اور تین کی نیت کی ہوتو جنس کا اعتبار کرتے ہوئے مجموعہ واقع ہوگی۔یعنی آزاد کو تین کیونکہ یہ اس کی آخری طلاق ہے۔اور باندی کو دو کیونکہ یہی اس کی آخری طلاق ہے۔ اصول یہ مسائل اس اصول پر ہیں کہ مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے۔اور دوسرااصول یہ ہے کہ مصدر عدد کا احتمال نہیں رکھتا ،البتہ اسم جنس ہونے کی وجہ سے مجموعے کا احتمال رکھتا ہے۔اس لئے تین واقع ہوگی دو طلاق نہیں۔
لغت الطلاق : مصدر معرفہ ہے، طلاقا : مصدر نکرہ ہے۔
]١٩٠٦[(٢٢) دوسری قسم کنایات ہے۔نہیں واقع ہوتی اس سے طلاق مگر نیت سے ،یا دلالت حال سے اور اس کی بھی دو قسمیں ہیں ۔ان میں سے تین الفاظ ان سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اور نہیں واقع ہوگی ان سے مگر ایک طلاق اور وہ یہ ہیں عدت گزارلے اور اپنا رحم صاف کرلے اور تو اکیلی ہے تشریح پہلے گزر چکا ہے کہ طلاق کنایہ ان الفاظ سے ہوتی ہے جن کے دو معنی ہوں۔ ایک معنی کے اعتبار سے طلاق ہوتی ہو اور دوسرے معنی کے اعتبار سے واقع نہیں ہوتی ہو۔چونکہ ان کے دو معنی ہیں اس لئے یا تو نیت کرے یا حالات کا تقاضہ ہو کہ وہ طلاق ہی دینا چاہتا ہے تب طلاق واقع ہوگی۔
وجہ حدیث میں اس کا ثبوت ہے۔عن عبد اللہ بن علی بن یزید بن رکانة عن ابیہ عن جدہ انہ طلق امرأتہ البتة فاتی رسول اللہ ۖ فقال مااردتَ ؟ قال واحدة قال اللہ ؟ قال اللہ قال ھو علی ما اردت (الف) (ابو داؤد شریف ، باب فی البتة ص ٣٠٧ نمبر ٢٢٠٨ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یطلق امرأتہ البتة ص ٢٢٢ نمبر ١١٧٧) اس حدیث میں حضرت رکانہ نے طلاق البتہ دیا ہے جس کے دو معنی ہیں(١) کسی چیز کو کاٹنا (٢) اور نکاح کو کاٹنا۔چونکہ دو معنی تھے اس لئے حضورۖ نے رکانہ سے پوچھا کیا نیت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ایک طلاق کی۔پس آپ نے فرمایا جتنی نیت کی ہے اتنی ہی طلاق واقع ہوگی۔اس سے معلوم ہوا الفاظ کنایہ میں طلاق واقع ہونے کے لئے نیت کی ضرورت ہوگی۔
اس عبارت میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کنایات میں سے تین الفاظ ایسے ہیں جن سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔
حاشیہ : (الف) حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی اور حضور ۖ کے پاس آئے اور کہا میں نے نہیں ارادہ کیا ہے مگر ایک۔آپۖ نے فرمایا خدا کی قسم ایک ہی کی نیت کی ہے؟ حضرت رکانہ نے فرمایا خدا کی قسم۔آپۖ نے فرمایا جو ارادہ کیا وہی صحیح ہے۔