دعا ہے اور بے تدبىر کے کاموں مىں تدبىر کى جگہ بھى دعا ہى ہے۔
تو اس مىں زىادہ دعا ہوئى اور دعا فقط اس کا نام نہىں کہ دو چار باتىں ىاد کر لىں اور نمازوں کے بعد اس کو صرف زبان سے آموختہ کى طرح پڑھ دىا سو ىہ دعا نہىں ہے محض دعا کى نقل ہے۔ دعا کى حقىقت اﷲتعالىٰ کے دربار مىں درخواست پىش کرنا ہے۔ سو جس طرح حاکم کے ىہاں درخواست دىتے ہىں کم سے کم دعا اس طرح تو کرنا چاہئے کہ درخواست دىنے کے وقت آنکھىں بھى اسى طرف لگى ہوتى ہىں دل بھى ہہ تن ادھر ہى ہوتا ہے، صورت بھى عاجزوں کى سى بناتے ہىں، اگر زبانى کچھ عرض کرنا ہوتا ہے تو کىسے ادب سے گفتگو کرتے ہىں اور اپنى عرضى منطور ہونے کىلئے پورا زور لگاتے ہىں اور اس ىقىن دلانے کى پورى کوشش کرتے ہىں کہ ہم کو آپ سے پورى امىد ہے کہ ہمارى درخواست پر پورى توجہ فرمائى جاوے گى۔ پھر بھى عرضى کے موافق حکم نہ ہوا اور حکم عرضى دىنے والے کے سامنے افسوس ظاہر کرے کہ تمہارى مرضى کے موافق تمہارا کام نہ ہوا تو ىہ شخص فوراً ىہ جواب دىتا ہے کہ حضور مجھ کو کوئى رنج ىا شکاىت نہىں اس معاملہ مىں قانون ہى سے جان نہ تھى ىا مىرى پىروى مىں کمى رہ گئى تھى۔ حضور نے کچھ کمى نہىں فرمائى اور اگر اس حاجت کى آئندہ بھى ضرورت ہو تو کہتا ہے کہ مجھ کو نا امىدى نہىں پھر عرض کرتا رہوں گا۔ اور اصلى بات تو ىہ ہے کہ مجھ کو حضور کى مہربانى کام ہونے سے زىادہ پىارى چىز ہے کام تو خاص وقت ىا محدود درجہ کى چىز ہے حضور کى مہربانى تو عمر بھر کى اور غىر محدود