اور گواہوں کا انتظام بھى کرنا چاہئےمگر اس کے ساتھ خدا تعالىٰ سے دعا بھى کرنا چاہئے کہ اے اﷲ! اس مقدمہ مىں مجھ کو فتح دے اور ظلم کے شر سے مجھ کو بچا۔ ىا قرآن اور علم دىن حاصل کر رہا ہے تو اس مىں جى لگا کر پابندى سے محنت بھى کرنا چاہئے مگر اس کے ساتھ دعا بھى کرنا چاہئے کہ اے اﷲ! اس کو آسان کر دے اور مىرے ذہن مىں اس کو جما دے، ىا نماز روزہ وغىرہ شروع کىا ہے، ىا بزرگوں کے بتلانے سے اور عبادتوں مىں لگ گىا ہو تو سُستى اور نفس کے حىلہ بہانہ کا مقابلہ کر کے ہمت کے ساتھ اس کو نباہنا چاہئے مگر دعا بھى کرتا رہے کہ اے اﷲ! مىرى مدد کر اور مجھ کو اس کى ہمىشہ توفىق دے اور اس کو قبول فرما۔
ىہ نمونہ کے طور پر چند مثالىں لکھ دى ہىں ہر کام اور ہر مصىبت مىں اِسى طرح جو اپنے کرنے کى تدبىر ہے وہ بھى کرے اور سب تدبىروں کے ساتھ اﷲتعالىٰ سے خوب عاجزى اور توجہ کے ساتھ عرض بھى کرتا رہے اور جس کام مىں تدبىر کا کچھ دخل نہىں اس مىں تو تمام کوشش دعا ہى مىں خرچ کرنا ضرور ہے جىسے بارش کا ہونا ىا اولاد کا زندہ رہنا ىا کسى بىمارى کا علاج ، بىمارى سے اچھا ہوجانا ىا نفس و شىطان کا نہ بہکانا ىا وبا اور طاعون سے محفوظ رہنا ىا قابو ىافتہ ظالموں کے شر سے بچنا۔ ان کاموں کا بنانے والا تو بجز خدا تعالىٰ کے کوئى برائے نام بھى نہىں، اس لئے تدبىر کے کاموں مىں جتنا حصہ تدبىر کا ہے۔ ان بے تدبىر کے کاموں مىں وہ حصہ تدبىر کا بھى دعاء ہى مىں خرچ کرنا چاہئے۔ غرض تدبىر کے کاموں مىں تو کچھ تدبىر اور کچھ