لكل ذنب أما إنه يجاء بلحمها ودمها توضع في ميزانك سبعين ضعفا.قال أبو سعيد يا رسول الله هذا لآل محمد خاصة فإنهم أهل لما خصوا به من الخير أو للمسلمين عامة قال لآل محمد خاصة وللمسلمين عامة. رواه أبو القاسم الأصبهاني
حضرت علىؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا : اے فاطمہ! اُٹھ اور (ذبح کے وقت ) اپنى قربانى کے پاس موجود رہ کىونکہ پہلا قطرہ جو قربانى کا زمىن پر گرتا ہے اُس کے ساتھ ہى تىرے لئے تمام گناہوں کى مغفرت ہوجائے گى (اور) ىاد رکھ کہ (قىامت کے دن) اِس (قربانى) کا خون اور گوشت لاىا جائے گا اور تىرى مىزان (عمل) مىں ستّر حصہ بڑھا کر رکھ دىا جاوے گا (اور اِن سب کے بدلے نىکىاں دى جاوىں گى) ابو سعىدؓ نے عرض کىا ىا رسول اﷲ() ىہ (ثواب مذکور) کىا خاص آل محمد کے لئے کىونکہ وہ اس کے لائق بھى ہىں کہ کسى چىز کے ساتھ خاص کئے جائىں ىا آل محمد اور سب
مسلمانوں کے لئے عام طور پر ہے۔ آپ نے فرماىا کہ آل محمد کے لئے (اىک طرح سے) خاص بھى ہے اور سب مسلمانوں کے لئے عام طور پر بھى ہے (اصبہانى)
ف:۔ اىک طرح سے خاص ہونے کا مطلب وىسا ہى معلوم ہوتا ہے جىسا قرآن مجىد مىں رسول اﷲ کى بىوىوں کے لئے فرماىا ہے کہ نىک کام کا ثواب بھى اوروں سے