زمىن پر گرنے سے پہلے اﷲتعالىٰ
کے ىہاں اىک خاص درجہ مىں پہونچ جاتا ہے سو تم لوگ جى خوش کر کے قربانى کرو (زىادہ داموں کے خرچ ہوجانے پر جى بُرا مت کىا کرو)
عن زيد بن أرقم رضي الله عنه، قال: قلنا: يا رسول الله ما هذه الأضاحي؟ قال: «سنة أبيكم إبراهيم» قال: قلنا: فما لنا منها؟ قال: «بكل شعرة حسنة» قلنا: يا رسول الله فالصوف؟ قال: «فكل شعرة من الصوف حسنة» رواه الحاكم
زىد بن ارقمؓ سے رواىت ہے کہ صحابہ نے پوچھا ىا رسول اﷲ! ىہ قربانى کىا چىز ہے؟ آپ نے فرماىا تمہارے (نسبى ىا روحانى) باپ ابراہىم کا طرىقہ ہے۔ انہوں نے عرض کىا کہ ہم کو اس مىں کىا ملتا ہے ىا رسول اﷲ!آپ نے فرماىا ہر بال کے بدلے اىک نىکى۔ انہوں نے عرض کىا کہ اگر اُون (والا جانور) ہو ۔ آپ نے فرماىا کہ اون کے ہر بال کے بدلے بھى اىک نىکى (حاکم)
عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك فإن لك بأول قطرة تقطر من دمها مغفرة لكل ذنب أما إنه يجاء بلحمها ودمها توضع في ميزانك سبعين ضعفا.قال أبو سعيد يا رسول الله هذا لآل محمد خاصة فإنهم أهل لما خصوا به من الخير أو للمسلمين عامة قال لآل محمد خاصة وللمسلمين عامة. رواه أبو القاسم الأصبهاني
حضرت علىؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا : اے فاطمہ! اُٹھ اور (ذبح کے وقت ) اپنى قربانى کے پاس موجود رہ کىونکہ پہلا قطرہ جو قربانى کا زمىن پر گرتا ہے اُس کے ساتھ ہى تىرے لئے تمام گناہوں کى مغفرت ہوجائے گى (اور) ىاد رکھ کہ (قىامت کے دن) اِس (قربانى) کا خون اور گوشت لاىا جائے گا اور تىرى مىزان (عمل) مىں ستّر حصہ بڑھا کر رکھ دىا جاوے گا (اور اِن سب کے بدلے نىکىاں دى جاوىں گى) ابو سعىدؓ نے عرض کىا ىا رسول اﷲ() ىہ (ثواب مذکور) کىا خاص آل محمد کے لئے کىونکہ وہ اس کے لائق بھى ہىں کہ کسى چىز کے ساتھ خاص کئے جائىں ىا آل محمد اور سب