والمعتمر» رواه البيهقي
حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا جو شخص حج کرنے ىا عمرہ کرنے ىا جہاد کرنے چلا پھر وہ راستہ ہى مىں (ان کاموں کے کرنے سے پہلے) مر گىا، اﷲتعالىٰ اس کے لئے غازى اور حاجى اور عمرہ والے کا ثواب لکھے گا۔ (عىن مشکوٰۃ از بىہقى)
اور حج کے متعلق اىک تىسرا عمل اور بھى ہے ىعنى حضور اقدس کے روضۂ شرىف کى زىارت جو اکثر علماء کے نزدىک مستحب ہے اور جس طرح حج مىں عشق الٰہى کى شان تھى اس زىارت مىں عشق نبوى کى شان ہے۔ اور جب حج سے عشق الٰہى مىں ترقى ہوئى اور زىارت سے عشق نبوى مىں جس کے دل مىں اﷲو رسول کا عشق ہوگا وہ دىن مىں کتنا مضبوط ہوگا ۔اس شان عشقى کا پتہ اس حدىث سے چلتا ہے:
عن ابن عمر مرفوعا: «من حج فزار قبري بعد موتي كان كمن زارني في حياتي» . رواه البيهقي
حضرت ابن عمرؓ سے رواىت ہے کہ ارشاد فرماىا رسول اﷲ نے جو شخص حج کرکے مىرى وفات کے بعد مىرى قبر کى زىارت کرے وہ اىسا ہے جىسے مىرى حىات مىں مىرى زىارت کرے (عىن مشکوٰۃ از بىہقى)
ف:۔ حضور نے دونوں زىارتوں کو برابرفرماىا اور جب کسى خاص بات کى تخصىص نہىں تو ہر اثر مىں برابر ہوں گى اور ظاہر ہے کہ آپ کى حىات مىں آپ کى زىارت