ف:۔ اس مىں حج و عمرہ کا اىک دىنى نفع مذکور ہے اور اىک دنىوى نفع اور گناہ سے مراد حقوق اﷲہىں کىونکہ حقوق العباد؎ تو شہادت سے بھى معاف نہىں ہوتے (لحدىث ”الا الدىن“ کما فى المشکوٰۃ عن مسلم)
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «الحاج والعمار وفد الله إن دعوه أجابهم وإن استغفروه غفر لهم» . رواه ابن ماجه
حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے کہ پىغمبر نے فرماىا: حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اﷲتعالىٰ کے مہمان ہىں اگر وہ دعا کرتے ہىں اﷲتعالىٰ ان کى دعا قبول کرتا ہے اور اگر وہ اس سے مغفرت چاہتے ہىں وہ ان کى مغفرت کرتا ہے (عىن مشکوٰۃ از ابن ماجہ)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من خرج حاجا أو معتمرا أو غازيا ثم مات في طريقه كتب الله له أجر الغازي والحاج والمعتمر» رواه البيهقي
حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا جو شخص حج کرنے ىا عمرہ کرنے ىا جہاد کرنے چلا پھر وہ راستہ ہى مىں (ان کاموں کے کرنے سے پہلے) مر گىا، اﷲتعالىٰ اس کے لئے غازى اور حاجى اور عمرہ والے کا ثواب لکھے گا۔ (عىن مشکوٰۃ از بىہقى)