انظروا إلى عبادي أتوني شعثا غبرا ضاحين من كل فج عميق أشهدكم أني قد غفرت لهم " رواه ابن خزيمة والبيهقي
حضرت جابرؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے (اىک لانبى حدىث مىں) فرماىا کہ جب عرفہ کا دن ہوتا ہے (جس مىں حاجى لوگ عرفات مىں ہوتے ہىں) اﷲتعالىٰ فرشتوں سے ان لوگوں پر فخر کے ساتھ فرماتا ہے کہ مىرے بندوں کو دىکھو کہ مىرے پاس دور دراز راستہ سے اس حالت مىں آئے ہىں کہ پرىشان بال ہىں اور غبار آلود بدن ہے اور دھوپ مىں چل رہے ہىں مَىں تم کو گواہ کرتا ہوں کہ مَىں نے ان کو بخش دىا (بىہقى و ابن خزىمہ)
ف:۔ اس صورت کا عاشقانہ ہونا ظاہر ہے اور فخر کے ساتھ اس کا ذکر فرمانا اس عاشقانہ صورت کے پىارى ہونے کو بتلا رہا ہے ىہ چند حدىثىں حج مىں عاشقى کى شان ہونے کى تائىد مىں بطور نمونہ کے لکھ دى گئىں ورنہ حج کے سارے افعال کھلم کھلا اسى عاشقانہ رنگ کے ہىں ىعنى مزدلفہ عرفات کے پہاڑوں مىں پھرنا ، لبىک کہنے مىں چىخنا پکارنا، ننگے سر پھرنا ، اپنى زندگى کو موت کى شکل بنا لىنا ىعنى مردوں کا سا لباس پہننا ناخن بال تک نہ اُکھاڑنا جُوں تک کو نہ مارنا جس سے دىوانوں کى سو صورت بھى ہوجاتى ہے ، سرمنڈانا، کسى جانور کا شکار نہ کرنا، خاص حد کے اندر درخت نہ کاٹنا، گھاس تک نہ توڑنا جس مىں کوچۂ محبوب کا ادب بھى ہے۔ ىہ کام عاقلوں کے ہىں ىا