اسود کو معبود نہىں سمجھتے کىونکہ معبود تو وہى ہوتا ہے جو نفع و ضرر کا مالک ہو۔
عن ابن عمر، قال: استقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم الحجر، ثم وضع شفتيه عليه، يبكي طويلا، ثم التفت، فإذا هو بعمر بن الخطاب يبكي، فقال يا عمر: «هاهنا تسكب العبرات» رواه ابن ماجة و ابن خزيمة والحاكم
ابن عمرؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے حجر اسود کى طرف رُخ کىا پھر اس پر اپنے دونوں لب (مبارک) اىسى حالت مىں رکھے کہ بڑى دىر تک روتے رہے پھر جو نگاہ پھىرى تو دىکھتے کىا ہىں کہ حضرت عمرؓ بھى رو رہے ہىں ۔ آپ نے فرماىا اے عمر! اس مقام پر آنسو بہائے جاتے ہىں (ابن ماجہ و ابن خزىمہ و حاکم و بىہقى)
ف:۔ محبوب کى نشانى کو پىار کرتے ہوئے رونا صرف عشق سے ہوسکتا ہے خوف وغىرہ سے نہىں ہوسکتا اور افعال عاشقانہ تو ارادہ سے بھى ہوسکتے ہىں مگر رونا بدون جوش کے ہو نہىں سکتا پس حج کا تعلق عشق سے اس حدىث سے اور زىادہ ثابت ہوتا ہے۔
عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عرفة إن الله ينزل إلى السماء فيباهي بهم الملائكة، فيقول: انظروا إلى عبادي أتوني شعثا غبرا ضاحين من كل فج عميق أشهدكم أني قد غفرت لهم " رواه ابن خزيمة والبيهقي
حضرت جابرؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے (اىک لانبى حدىث مىں) فرماىا کہ جب عرفہ کا دن ہوتا ہے (جس مىں حاجى لوگ عرفات مىں ہوتے ہىں) اﷲتعالىٰ فرشتوں سے ان لوگوں پر فخر کے ساتھ فرماتا ہے کہ مىرے بندوں کو دىکھو کہ مىرے پاس دور دراز راستہ سے اس حالت مىں آئے ہىں کہ پرىشان بال ہىں اور غبار آلود بدن ہے اور دھوپ مىں چل رہے ہىں مَىں تم کو گواہ کرتا ہوں کہ مَىں نے ان کو بخش دىا (بىہقى و ابن خزىمہ)