عاشقوں کے۔ اور ان مىں بعض افعال جو عورتوں کے لئے نہىں ہىں اِس مىں اىک خاص وجہ ہے ىعنى پردہ کى مصلحت اور خانۂ کعبہ کے گرد گھومنا اور صفا مروہ کے بىچ مىں دوڑنا اور خاص نشانوں پر کنکر پتھر مارنا اور حجرِ اسود کو بوسہ دىنا اور زار زار رونا اور خاک آلودہ دھوپ مىں چلتے ہوئے عرفات مىں حاضر ہونا ان کے عاشقانہ افعال ہونے کا ذکر اوپر حدىثوں مىں آچکا ہے۔ اور جس طرح حج مىں عشق و محبت کا رنگ ہے اس کے ادا کا جس مقام سے تعلق ہے ىعنى مکہ معظمہ مع اپنے متعلقات کے اس مىں بھى محبت کى شان رکھى گئى ہے جس سے حج کا وہ رنگ اور تىز ہوجائے۔ چنانچہ آىت مىں ہے۔ رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ إبراهيم: ٣٧
حضرت ابراہىم علىہ السلام نے دعا کى کہ مَىں اپنى اولاد کو آپ کے معظم گھر کے قرىب آباد کرتا ہوں آپ کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کى طرف مائل کر دىجئے (سورۂ ابراہىم مختصراً، آىت:37)
ف:۔ اس دعا کا وہ اثر آنکھوں سے نظر آتا ہے جس کو ابن ابى حاتم نے سدى سے رواىت ہے کىا ہے۔
فلذلك ليس من مؤمن إلا وقلبه معلق بحب الكعبة. قال ابن عباس رضي الله عنهما: لو أن إبراهيم عليه السلام حين دعا قال: اجعل افئدة الناس تهوي إليهم لازدحمت عليه اليهود والنصارى ولكنه خص حين قال: {أفئدة من الناس} فجعل ذلك أفئدة المؤمنين. (الدر المنثور)
کوئى مؤمن اىسا نہىں جس کا دل کعبہ کى محبت مىں پھنسا ہوا نہ ہو۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہىں کہ اگر ابراہىم علىہ السلام ىہ کہہ دىتے کہ ”لوگوں کے قلوب“ تو ىہود و نصارىٰ کى وہاں بھىڑ ہوجاتى لىکن انہوں نے اہل اىمان کو خاص کر دىا (کہ ”کچھ لوگوں کے قلوب“ کہہ دىا؎) (عىن درمنثور)