وسلم: «تبسمك في وجه أخيك صدقة وأمرك بالمعروف صدقة ونهيك عن المنكر صدقة وإرشادك الرجل في أرض الضلال لك صدقة ونصرك الرجل الرديء البصر لك صدقة وإماطتك الحجر والشوك والعظم عن الطريق لك صدقة وإفراغك من دلوك في دلو أخيك لك صدقة» . رواه الترمذي
حضرت ابوذرؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا جب اپنے بھائى(مسلمان) کا سامنا (ىعنى ملاقات) ہو اس وقت مسکرانا (جس سے وہ سمجھے کہ مجھ سے مِل کر اس کو خوشى ہوئى ہے) ىہ بھى صدقہ ہے اور کسى کو اچھى بات کا حکم کر دىنا اور بُرى بات سے منع کر دىنا ىہ بھى صدقہ ہے، اور راستہ بھول جانے کے مقام مىں کسى کو راستہ بتلا دىنا ىہ بھى تىرے لئے صدقہ ہے، اور کسى کى بىنائى مىں خرابى ہو اُس کى مدد کر دىنا ىہ بھى تىرے لئے صدقہ ہے، اور اپنے ڈول سے اپنے بھائى کے ڈول مىں (پانى) اونڈىل دىنا ىہ بھى تىرے لئے صدقہ ہے (ترمذى)
عن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد ماتت فأي الصدقة أفضل؟ قال: «الماء» . فحفر بئرا وقال: هذه لأم سعد. رواه أبو داود والنسائي
حضرت سعد بن عبادہؓ سے رواىت ہے کہ انہوں نے عرض کىا کہ ام سعد (ىعنى مىرى والدہ) مر گئىں سو کونسا صدقہ زىادہ فضىلت کا ہے (جس کا ثواب ان کو بخشوں) آپ نے فرماىا پانى۔ انہوں نے اىک کنواں کُھدواىا اور ىہ کہہ دىا کہ ىہ (ىعنى اس کا ثواب) ام سعد کے لئے ہے (ابوداؤد و نسائى)