رطبة أجر»متفق عليه
حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا کہ اىک بدچلن عورت کى اس پر بخشش ہوگئى کہ اس کا اىک کتّے پر گذر ہوا جو اىک کنوئىں کے کنارہ پر زبان لٹکائے ہوئے تھا، پىاس سے ہلاک ہونے کو تھا۔ اُس عورت نے اپنا چمڑہ کا موزہ نکالا اور اُس کو اپنى اوڑھنى مىں باندھا اور اس کے لئے پانى نکالا( اور اس کو پلاىا) اس سے اس کى بخشش ہوگئى۔ عرض کىا گىا کہ ہم کو جانوروں (کى خدمت کرنے) مىں بھى ثواب ملتا ہے۔ آپ نے فرماىا
جتنے تر کلىجے والے ہىں (ىعنى جاندار ہىں) ان سب مىں ثواب ہے (بخارى ومسلم)
ف:۔ مگر جو موذى جانور ہىں جىسے سانپ بچھو ان کا حکم بخارى ومسلم کى دوسرى حدىثوں مىں آىا ہے کہ ان کو قتل کر دو (باب المحرم ىجتنب الصىد)
عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اعبدوا الرحمن وأطعموا الطعام وأفشوا السلام تدخلوا الجنة بسلام» . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت عبد اﷲبن عمرؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا رحمٰن کى عبادت کرو اور کھانا کھلاىا کرو اور سلام کو عام کرو (ىعنى ہر مسلمان کو سلام کرو خواہ اُس سے جان پہچان ہو ىا نہ ہو) تم جنت مىں سلامتى کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے (ترمذى و ابن ماجہ)
عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تبسمك في وجه أخيك صدقة وأمرك بالمعروف صدقة ونهيك عن المنكر صدقة وإرشادك الرجل في أرض الضلال لك صدقة ونصرك الرجل الرديء البصر لك صدقة وإماطتك الحجر والشوك والعظم عن الطريق لك صدقة وإفراغك من دلوك في دلو أخيك لك صدقة» . رواه الترمذي
حضرت ابوذرؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا جب اپنے بھائى(مسلمان) کا سامنا (ىعنى ملاقات) ہو اس وقت مسکرانا (جس سے وہ سمجھے کہ مجھ سے مِل کر اس کو خوشى ہوئى ہے) ىہ بھى صدقہ ہے اور کسى کو اچھى بات کا حکم کر دىنا اور بُرى بات سے منع کر دىنا ىہ بھى صدقہ ہے، اور راستہ بھول جانے کے مقام مىں کسى کو راستہ بتلا دىنا ىہ بھى تىرے لئے صدقہ ہے، اور کسى کى بىنائى مىں خرابى ہو اُس کى مدد کر دىنا ىہ بھى تىرے لئے صدقہ ہے، اور اپنے ڈول سے اپنے بھائى کے ڈول مىں (پانى) اونڈىل دىنا ىہ بھى تىرے لئے صدقہ ہے (ترمذى)