عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه إنسان أو طير أو بهيمة إلا كانت له صدقة»متفق عليه. وفي رواية لمسلم عن جابر: «وما سرق منه له صدقة»
حضرت انسؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا جو مسلمان کوئى درخت لگادے ىا کوئى کھىتى بُو دے پھر اس مىں سے کوئى انسان ىا پرندہ چرندہ کھاوے وہ بھى اس کے لئے صدقہ ہوگا (بخارى و مسلم) اور مسلم کى اىک رواىت مىں حضرت جابرؓ سے ہے کہ جو اس مىں سے چورى ہوجاوے وہ بھى اس کے لئے صدقہ ہے۔
ف:۔ حالانکہ مالک نے چور کو نفع پہونچانے کا ارادہ نہىں کىا پھر بھى صدقہ کا ثواب ملنا ىہ کتنى بڑى رحمت ہے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غفر لامرأة مومسة مرت بكلب على رأس ركي يلهث كاد يقتله العطش فنزعت خفها فأوثقته بخمارها فنزعت له من الماء فغفر لها بذلك» . قيل: إن لنا في البهائم أجرا؟ قال: «في كل ذات كبد رطبة أجر»متفق عليه
حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا کہ اىک بدچلن عورت کى اس پر بخشش ہوگئى کہ اس کا اىک کتّے پر گذر ہوا جو اىک کنوئىں کے کنارہ پر زبان لٹکائے ہوئے تھا، پىاس سے ہلاک ہونے کو تھا۔ اُس عورت نے اپنا چمڑہ کا موزہ نکالا اور اُس کو اپنى اوڑھنى مىں باندھا اور اس کے لئے پانى نکالا( اور اس کو پلاىا) اس سے اس کى بخشش ہوگئى۔ عرض کىا گىا کہ ہم کو جانوروں (کى خدمت کرنے) مىں بھى ثواب ملتا ہے۔ آپ نے فرماىا