صدقة ويميط الأذى عن الطريق صدقة "متفق عليه
حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا انسان کے ہر جوڑ پر ہر روز اىک صدقہ لازم ہے دو شخصوں کے درمىان انصاف کر دے ىہ بھى صدقہ ہے ، کسى شخص کو جانور پر سوار کرنے مىں ىا اس کا اسباب لادنے مىں مدد کر دے ىہ بھى صدقہ ہے، کوئى اچھى بات( جس سے کسى کا بھلا ہوجاوے) ىہ بھى صدقہ ہے جو قدم نماز کى طرف اُٹھاوے وہ بھى صدقہ ہے، کوئى تکلىف کى چىز راستہ سے ہٹا دے ىہ بھى صدقہ ہے (بخارى ومسلم)
ف:۔ مسلم کى اىک دوسرى حدىث مىں اس کى شرح آتى ہے کہ (گِنتى کے قابل) انسان کے تىن سو ساٹھ جوڑ ہىں جس شخص نے روز مرہ اتنى نىکىاں کرلىں اس نے اپنے کو دوزخ سے بچا لىا۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نعم الصدقة اللقحة الصفي منحة والشاة الصفي منحة تغدو بإناء وتروح بآخر» متفق عليه
حضرت ابوہرىرہؓ سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىا بہت اچھا صدقہ ىہ ہے کہ کوئى اونٹنى دودھ والى کسى کو مانگى دے دى جاوے۔ اور (اسى طرح) بکرى دودھ والى کسى کو مانگى دے دى جاوے( اس کا کہ وہ اس کا دودھ پىتا رہے جب دودھ نہ رہے لوٹا دے) جو اىک برتن صبح کو بھردے اىک برتن شام کو بھردے (بخارى ومسلم)