ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2010 |
¾اكستان Ù |
|
ے بٹیا! یہ کہتی ہیں کہ محمد بن عبداللہ(ۖ) نے تجھ سے نکاح کرنے کے لیے اپنا پیغام بھیجا ہے۔ میرے نزدیک جگہ بہت مناسب ہے ، کیا تیری خوشی ہے کہ میں تیرا نکاح اُن سے کروں؟ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا جی ہاں میری رائے ہے یہ سن کر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے والد نے حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا اچھا اُن کو بلالاؤ چنانچہ وہ آنحضور ۖ کو بلالائیں اَور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے والد نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ ۖ سے کردیا۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبدبن زمعہ اُس وقت موجود نہ تھے جب وہ گھر آئے اَور اِس واقعہ کی خبر ہوئی تو اِسے بڑا واقعہ سمجھ کر سر پر خاک ڈالی یہ کیا غضب ہوگیا؟ اُس وقت وہ کافر تھے۔ بعد میں جب اِسلام قبول کیا تو اپنی اِس نادانی پر افسوس کیا کرتے تھے کہ میری بہن آنحضرت ۖ کے نکاح میں آئیں اَور میں نے اِسے ایسا واقعہ سمجھا کہ اظہارِ رنج کے لیے سر پر خاک ڈالی ۔ (البدایہ ) نکاح کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا آنحضرت ۖ کے دولت کدہ پر تشریف لے آئیں اَور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد نبوت کے گھرانے کی دیکھ بھال اِن کے سپرد ہوئی۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے والد کانام ''زمعہ'' اَور والدہ کا نام'' شموس'' تھا پہلے اُن کا نکاح اُن کے چچیرے بھائی حضرت سکران بن عمر سے ہوا تھا۔ دونوں میاں بیوی سابقین اوّلین میں سے ہیں۔ اسلام کے ابتدائی دَور میں مسلمان ہوگئے تھے اَور مشرکین ِ مکہ کی اَذیتوں سے تنگ آکر جو مسلمان حبشہ کو ہجرت کرگئے تھے اُن میں یہ دونوں میاں بیوی بھی تھے، حبشہ سے واپس ہو کر مکہ مکرمہ میں حضرت سکران رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی اَور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوگئیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت سکران نے حبشہ ہی میں وفات پائی(کما فی التہذیب)۔ اِس کے بعد آنحضرت ۖ نے اِن سے نکاح کیا (البدایہ والاستیعاب) پہلے شوہر نے ایک لڑکا چھوڑا تھا جن کا نام عبدالرحمن تھا۔ اُنہوں نے جوانی کی عمر پائی اَور جنگ جلو لائ(فارس) میں اللہ کی راہ میں لڑتے لڑتے شہادت کا جام پیا ۔(جاری ہے)