ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009 |
¾اكستان Ù |
|
مذکورہ بالا تمام حفاظ ِ حدیث ہیں اَور کوفی ہیں۔ تو اِن سب نے بالاتفاق روایت ِ ہشام بن عروہ کو لیا ہے۔ روایت ِ اَسود کو ان میں سے صرف ابومعاویہ نے ذکر کیا ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ روایت ِ اَسود کو خود کوفے والوں نے قبول نہیں کیا۔ (٧) ابومعاویہ کے طبقہ میں اِس روایت ِ اَسود کا اَور کوئی راوی نہیں ہے۔ اِسی طبقے کے ٨ حفاظ کوفی روایت ہشام بیان کرتے ہیں مگر روایت ِ اَسود سے خاموش ہیں۔اِس روایت میں ضرور کوئی علت ِ قادحہ ایسی ہے جس کی وجہ سے اِسے نظر اَنداز کردیا گیا۔اِن حفاظ میں سے بہت سے اعمش سے روایات بیان کرتے ہیں مگر اِس روایت ِ اَسود کو بیان نہیں کرتے۔ (٨) ابومعاویہ کے سوا اَعمش سے روایت ِاَسود کا پورے ذخیرۂ حدیث میں کوئی راوی نہیں۔ اَعمش کے طبقہ میں اَعمش کے سوا اِبراہیم سے اِس روایت ِ اَسود کا کوئی راوی نہیں۔پھر آگے ابراہیم کے طبقہ میں ابراہیم کے سوا اِس روایت ِ اَسود کا کوئی راوی نہیں۔تو اَسود سے صرف ابراہیم اور ابراہیم سے صرف اَعمش اور اَعمش سے صرف ابومعاویہ اِس کے راوی ہیں۔ (٩) تو یہ سند اَسود سے ابو معاویہ تک واحد عن واحد ہے۔ کوفے کے اِن حفاظ کو اِس روایت ِ اَسود سے کوئی کد تو تھی نہیں کہ اِسے ترک کردیا ۔ اور ہشام بن عروہ کی روایت کو قبول کرلیا اور ابو عبیدہ کی روایت تو اِس سے بھی نیچے ہے۔ اَسود کبار تابعین میں سے ہیں مگر کوفے والے اُن کو اِس روایت کو قبول کرنے میں متأمل ہیں۔ (١٠) اِس تحریر سے میرا مدعا صرف یہ ہے کہ اِس باب میں روایت ِ ہشام بن عروہ اَصل ہے اور روایت ِ اَسود متابع ہوسکتی ہے۔ بلاوجہ ہم یہ خیال کریں کہ کوفیوں کے نزدیک روایت ِ اَسود اَصل ہوگی دُرست نہیں ہے۔ کوفے والوں کے نزدیک بھی اَصل روایت ہشام بن عروہ کی ہے اَور روایت ِ ہشام ہی کوفی روایت ہے۔ (١١) اگرآپ کو میرا یہ اِستدلال قبول ہے تو دُوسرا مقدمہ شروع کروں گا۔ زیادہ کیا تصدیع کروں۔ راقم نیاز احمد ض