Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2009

¾اكستان Ù

18 - 64
مذکورہ بالا تمام حفاظ ِ حدیث ہیں اَور کوفی ہیں۔ تو اِن سب نے بالاتفاق روایت ِ ہشام بن عروہ کو لیا ہے۔ روایت ِ اَسود کو ان میں سے صرف ابومعاویہ نے ذکر کیا ہے۔
معلوم یہ ہوتا ہے کہ روایت ِ اَسود کو خود کوفے والوں نے قبول نہیں کیا۔ 
(٧)  ابومعاویہ کے طبقہ میں اِس روایت ِ اَسود کا اَور کوئی راوی نہیں ہے۔ اِسی طبقے کے ٨ حفاظ  کوفی روایت ہشام بیان کرتے ہیں مگر روایت ِ اَسود سے خاموش ہیں۔اِس روایت میں ضرور کوئی علت ِ قادحہ ایسی ہے جس کی وجہ سے اِسے نظر اَنداز کردیا گیا۔اِن حفاظ میں سے بہت سے اعمش سے روایات بیان کرتے ہیں مگر اِس روایت ِ اَسود کو بیان نہیں کرتے۔ 
(٨)  ابومعاویہ کے سوا اَعمش سے روایت ِاَسود کا پورے ذخیرۂ حدیث میں کوئی راوی نہیں۔ اَعمش کے طبقہ میں اَعمش کے سوا اِبراہیم سے اِس روایت ِ اَسود کا کوئی راوی نہیں۔پھر آگے ابراہیم کے طبقہ میں ابراہیم کے سوا اِس روایت ِ اَسود کا کوئی راوی نہیں۔تو اَسود سے صرف  ابراہیم اور ابراہیم سے صرف اَعمش اور اَعمش سے صرف ابومعاویہ اِس کے راوی ہیں۔ 
(٩)  تو یہ سند اَسود سے ابو معاویہ تک واحد عن واحد ہے۔ کوفے کے اِن حفاظ کو اِس روایت ِ اَسود سے کوئی کد تو تھی نہیں کہ اِسے ترک کردیا ۔ اور ہشام بن عروہ کی روایت کو قبول کرلیا اور ابو عبیدہ کی روایت تو اِس سے بھی نیچے ہے۔
اَسود کبار تابعین میں سے ہیں مگر کوفے والے اُن کو اِس روایت کو قبول کرنے میں متأمل ہیں۔ 
(١٠)  اِس تحریر سے میرا مدعا صرف یہ ہے کہ اِس باب میں روایت ِ ہشام بن عروہ اَصل ہے اور روایت ِ اَسود متابع ہوسکتی ہے۔ 
بلاوجہ ہم یہ خیال کریں کہ کوفیوں کے نزدیک روایت ِ اَسود اَصل ہوگی دُرست نہیں ہے۔ کوفے والوں کے نزدیک بھی اَصل روایت ہشام بن عروہ کی ہے اَور روایت ِ ہشام ہی کوفی روایت ہے۔ 
(١١)  اگرآپ کو میرا یہ اِستدلال قبول ہے تو دُوسرا مقدمہ شروع کروں گا۔
زیادہ کیا تصدیع کروں۔ راقم
نیاز احمد
ض

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 اِنسان گناہ کیوں کرتا ہے ؟ : 6 3
5 گناہوں کا اعتراف ضروری ہے مگر صرف اللہ کے سامنے : 7 3
6 بار بار گناہ کرنے والوں میں یا توبہ کرنے والوں میں شمار ہو گا ؟ : 8 3
7 اللہ کی رحمت نہ ہو تو معمولی بات بھی بڑاگناہ بن سکتی ہے : 9 3
8 دربارِ رسالت ۖ کا اَدب : 9 3
9 بڑی غلطی وہ ہے جو اللہ کی نظر میںبڑی ہو : 10 3
10 ملفوظات شیخ الاسلام 11 1
11 وفیات 12 1
12 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 13 1
13 حضرت اَقدس کا خط 19 1
14 حضرت اِبراہیم رضی اللہ عنہ 21 1
15 بو بکر و عمر ، عثمان و علی رضی اللہ عنہم 31 1
16 تربیت ِ اَولاد 32 1
17 بچوں کی پرورش سے متعلق احادیث ِنبویہ 32 16
18 بچوں کی پرورش میں مصیبتیں جھیلنے اوردُودھ پلانے کی فضیلت : 32 16
19 لڑکیوں کی پرورش کرنے کی فضیلت : 33 16
20 حمل ساقط ہوجانے اورزچہ بچہ کے مر جانے کی فضیلت : 33 16
21 دفن کے بعد اَذان کہنے کا مسئلہ 35 1
22 دفن کے بعد شرعی طور پر کیا کرنا چاہیے ؟ : 35 21
23 حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نزع کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت میں فرمایا 35 21
24 ۔ اصل اَشیاء میں حرمت ہے یا اَباحت یا توقف؟ 45 21
25 گلدستہ ٔ اَحادیث 46 1
26 پانچ دُعائیں قبول کی جاتی ہیں : 46 25
27 حضور علیہ الصلوة والسلام پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے : 46 25
28 حضور اَکرم ۖ کی طرف سے پانچ چیزو ں کا حکم : 47 25
29 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 48 1
30 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 48 29
31 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 48 29
32 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 49 29
33 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 51 29
34 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 52 29
35 بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب کا فتویٰ : 54 29
36 غیر مقلدین حضرات سے رفع ِیدین سے متعلق دس سوالات 56 1
37 دینی مسائل 61 1
38 ( طلاق دینے کا بیان ) 61 37
39 طلاقِ صریح اور طلاقِ بائن سے متعلق ایک ضابطہ : 61 37
40 رُخصتی سے قبل طلاق کا بیان : 61 37
41 بقیہ : دفن کے بعد اَذان کہنے کا مسئلہ 62 21
Flag Counter