ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
سے دُوری اور ناواقفیت کی وجہ سے اپنے کو دُنیا کے سامنے بطور ِسیکولر پیش کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور مذہب سے وہ اپنی وابستگی کے اِظہار میں جھجھکتے ہیں اپنے اُٹھنے بیٹھنے لباس وپوشاک، بول چال، رہن سہن غرض ہر معاملہ میں اُن ہی کی نقالی کو اِمتیازی شان سمجھتے ہیں ۔ایسی غلامانہ ذہنیت کی حامل مسلم قیادت سے خیر کی توقع رکھنا اور یہ سمجھنا کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں محض خام خیالی ہوگی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام مسلم حکومتیں مل کراُن مسلمان ملازمین کی جن کو نماز کے مطالبہ پر کا فروں کی کمپنی نے برطرف کیا ہے سفارتی سطح پر ہر ممکن اور فوری مدد کرتیں اور اِس مسئلہ کو عالمی سطح پر اُٹھا تیں کیونکہ اِس ناپاک اقدام کے ذریعے مسلمانوں کی بنیادی اور مذہبی آزادی کو سلب کرکے اِنسانی حقوق کو پامال کیا گیا ہے ۔ کم اَزکم یہ تو ہونا ہی چاہیے کہ اگر یہ ملازمین اپنے ملکوں کو واپس جاتے ہیں تو اُن کو باعزت روزگار کے بہتر سے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ جامعہ مدنیہ جدید کے فوری توجہ طلب ترجیحی اُمور (١) مسجد حامد کی تکمیل(٢) طلباء کے لیے دارالاقامہ (ہوسٹل) اور درسگاہیں(٣) کتب خانہ اور کتابیں (٤) پانی کی ٹنکی ثواب جاریہ کے لیے سبقت لینے والوں کے لیے زیادہ اَجر ہے ۔