ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2008 |
¾اكستان Ù |
|
کوزندہ اپنے عمل سے کریں اورآپ ۖ کی سنتوں پرنہایت مضبوطی سے چلیں۔ ٭ جن صاحب کے یہاںمیلاداورعرس ہوتاہے اورچونکہ خلاف ِشرع ہوتاہے اِس لیے اولاًاُس کی اصلاح ہونی چاہیے،اگریہ ممکن نہیں توآپ اُن کے اعمال میں شرکت نہ فرمائیں، ہاں اگرظن غالب ہوکہ وہ لوگ اِس کی وجہ سے آپ کے ایذاکے درپے ہوں گے یاتعصب وغیرہ میں پڑکراِس سے زیادہ گناہ میں مبتلاہوجائیں گے یامسلمانوں میں افتراق کازہریلابازارگرم ہوجائے گاتوشریک ہوجاناجائزہے۔ ٭ اپنی غلط کاریوں کوچھوڑتے ہوئے رشتہ داروں اوراربابِ حصص کوراضی کیجئے مظلوم کی بددُعاء میں اوراللہ تعالیٰ میں حجاب نہیں ہوتا۔ جناب رسول اللہ ۖ حضرت معاذرضی اللہ عنہ کویمن کاگورنربناکررُخصت کرتے ہوئے فرماتے ہیں اتق دعوة المظلوم فانہ لیس بینھا وبین اللّٰہ حجاب ۔ ٭ اختلاط باعث عدم تنافرہے اوروہ اقوام کو اِسلام کی طرف لانے میں والا اورتنافرباعث ضداورعدم اطلاع علی المحاسن ہے اوروہ اِسلامی ترقی میں سدِارہ ہونے والاہے،اورچونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے اِس لیے اُس کافریضہ ہے کہ جس قدرہوسکے غیرکواپنے میں ہضم کرے نہ یہ کہ اُن کودُورکرے، اِس لیے اگرہمسایہ قوم ہم سے نفرت کریں توہم کواُن کے ساتھ نفرت نہیں کرنی چاہیے۔ ٭ افسوس ہے کہ علماء نے عوام کے پاس جانااوراُن میں خلط ملط پیداکرکے اُن کی اصلاح کرنا تقریباً بالکل ہی چھوڑ دیاہے اوراِسی طرح تعلیم یافتہ بالخصوص نوجوان طبقہ کوبھی بالکل چھوڑدیاہے یہ غلط ہے۔کسی زمانے میں کفرونفاق وغیرہ کے الفاظ سے دہشت پیداکی جاتی تھی مگروہ آج موثرنہیں ہیں، جدوجہدسمجھ بوجھ کر کرنی چاہیے۔ ٭ حضرت لقمان علیہ السلام کی وصیت وَاصْبِرْعَلیٰ مَااَصَابَکْ ہی نہیں بلکہ حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی کودیکھئے کہ کن شدائدمیں گزری اورپھراُن کو اِنَّہ کَانَ عَبْدًاشَکُوْرًا فرمایاجاتاہے، آپ اپناجائزہ لیجئے چوبیس گھنٹو ں میں کس قدرشکرکرتے تھے اورکس قدرنعتہائے اِلٰہیہ اِستعمال کرتے تھے، اس کے آپ مسؤل ہیں۔ ٭ تجارت کے متعلق اگرچہ سرمایہ کی ضرورت ہے مگرتھوڑے سے سرمایہ سے بھی تجارت میں ترقی کی جاسکتی ہے یعنی روپیہ دوروپیہ سے بھی آگے قدم بڑھایاجاسکتاہے۔