ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2005 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت جابر کی حدیث میں ہے کہ حج کی نیکی لوگوں کو کھانا کھلانا اورنرم گفتگو کرنا ہے ۔دوسری حدیث میں ہے کہ حج کی نیکی کھانا کھلانا اورلوگوں کو کثرت سے سلام کرنا ہے (ترغیب ) ایک حدیث میں ہے کہ جب حضور ۖ نے ارشاد فرمایاکہ نیکی والے حج کابدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ، تو صحابہ نے دریافت کیاکہ حضور نیکی والا حج کیا چیز ہے ؟تو حضور ۖنے فرمایا کہ کھا نا کھلانا اور سلام کثرت سے کرنا۔ (کنز العمال ) عن عائشة رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا ان رسول اللّٰہ ۖ قال ما من یوم اکثر من ان یعتق اللّٰہ فیہ عبدا من النار من یوم عرفة وانہ لیدنو ثم یباھی بھم الملٰئکة فیقول ما اراد ھٰؤلاء ۔ (رواہ مسلم ،مشکٰوة ، بمعناہ عن جابر) حضور اقدس ۖ کا ارشاد ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زائد بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں ، یعنی جتنی کثیر مقدار کو عرفہ کے دن خلاصی ہوتی ہے اتنی کثیر تعداد کسی اوردن کی نہیں ہوتی ، حق تعالیٰ شانہ (دنیا کے ) قریب ہوتے ہیں پھر فخر کے طورپر فرماتے ہیں ، یہ بندے کیا چاہتے ہیں ۔ اللہ جل شانہ کا قریب ہونا یا نیچے کے آسمان پر اُترنا یا اِس قسم کے اور جو مضامین ذکر کیے گئے ہیں ، ان کی اصل حقیقت تو اللہ جل شانہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ ہر وقت قریب ہے ، اُترنے چڑھنے کے ظاہری معنی سے بالاتر ہے۔ علماء اِس قسم کے مضامین کو رحمت خاصہ کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا کرتے ہیں، جو مضمون حدیث بالا میں مذکور ہے اس قسم کے مضامین بہت سی احادیث میں وارد ہوئے ہیں ،ایک حدیث میں ہے کہ جب عرفہ کا دن ہوتا ہے توحق تعالیٰ شانہ سب سے نیچے آسمان پر اُتر کر فرشتوں سے فخر کے طورپر فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کو دیکھو کہ میرے پاس ایسی حالت میں آئے ہیں کہ سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں ، بدن پر اور کپڑوں پر سفر کی وجہ سے غبار پڑا ہوا ہے ، لبیک اللّٰھم لبیک کا شور ہے ، دُور دُور سے چل کر آئے ہیں ، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اِن کے گناہ معاف کردئیے ۔فرشتے عرض کرتے ہیں کہ یا اللہ فلاں شخص گناہوں کی طرف منسوب ہے، اور فلاں مرد اور فلاں عورت (تو بس کیا کہاجائے )حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوتا ہے کہ میں نے ان سب کی مغفرت کردی، حضور ۖ فرماتے ہیں کہ اس دن سے زیادہ کسی دن بھی لوگ جہنم کی آگ سے آزاد نہیں ہوتے ۔ (مشکٰوة)