ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2015 |
اكستان |
|
سامنے جھکنا خودداری اور اِسلامی غیرت کے خلاف ہے۔ جیسے ہی محمد رسول اللہ ۖ مدینہ طیبہ پہنچے مدینہ کے مسلم اور غیرمسلم باشندوں سے ایک معاہدہ ہو گیا او ر اِس طرح ایک ایسا نظام قائم ہو گیا جس کو حکومت یامملکت کہا جا سکتا ہے ممکن تھا کہ اِس نظام کے ذریعہ کوئی ٹیکس عائد کر دیا جاتا لیکن یہ بات اِسلامی خودداری کے قطعاً مخالف تھی کہ اپنی ضرورتوں کے لیے اُن سے ٹیکس وصول کریں جو ذہنی طور پر ہمنوا اور حامی نہیں ہیں، غیرت اور خود داری کا تقاضا یہ تھا کہ نو وارد مسلمانوں کے لیے اِمدادکی اپیل کی جائے جو صرف اُن سے جو ہر طرح اپنے آپ کو اِسلام کے لیے پیش کر چکے تھے لیکن (لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) کے اُصول کا تقاضا یہ تھا کہ اُن پر بھی کوئی جبر نہ کیا جائے، اِسلام کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ دِلوں میں وہ اِنقلاب پیدا کردیا جائے کہ وہ خود اپنی طرف سے اِمداد کا قانون بنائیں، کوئی سیاسی لیڈر ایسے موقع پر یہ کر سکتا تھا کہ کچھ جائیدادیں ضبط کرے تاکہ بے روزگاروں کا کام چلے اور نظام قائم ہوسکے لیکن اِس سے آپس میں محبت ہر گز نہیں قائم ہو سکتی تھی۔ اِسلامی تعلیمات نے بہت ہی تھوڑی مدت میں معجزہ کے طور پر ایک خاص وصف مسلمانوں کے اَندر پیدا کر دیا تھا اُس وصف کا نام'' اِیثار'' ہے اِس اِیثار نے ایک اِشارہ کیا آنحضرت ۖ کی پیغمبرانہ ذہانت نے اِس اِشارہ کو سمجھا، آپ نے ایک تجویز پیش کی کہ جو مدینہ کے اصل باشندے ہیں اور جو مکہ کے آنے والے مہاجر ہیں اُن کے اَندر قانونی بھائی چارگی قائم کر دی جائے یعنی صرف زبانی دوستی اور اُخوت نہیں بلکہ ایسی اُخوت جو دو نسلی بھائیوں کے اَندر ہوتی ہے، آپ نے تجویز پیش کی کہ ایک اَنصاری ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنالے، حضراتِ اَنصار یعنی مدینہ کے اصل باشندوں نے بڑی خوشی سے اِس تجویز کو منظور کرتے ہوئے عمل کی تمام ذمہ داری آنحضرت ۖ کے حوالے کردی، آپ نے نام بنام بھائی چارہ قائم کردیا یعنی یہ مہاجر فلاں اَنصاری کا بھائی ہے ،اِس بھائی چارہ کے معنی یہ تھے کہ مہاجر اِس اَنصاری کی تمام اِملاک کے اندر برابر کاشریک ہوگیا، جس قدر جائیداد ہے باغ ہے مکان ہے توآدھا اَنصاری کا یعنی مدینہ کے اصل باشندے کااور آدھااُس بھائی مہاجر کا۔ ایک لطیفہ یہ تھاکہ مہاجر بھائی کاشت سے قطعاً ناواقف اُس کا پیشہ تجارت اُس کا وطن مکہ