ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر 2015 |
اكستان |
|
ذمہ داری پر آنحضرت ۖ اور آپ کے ساتھیوں کو مدینہ طیبہ لائے تھے بیعت ِ عقبہ کے وقت اُن کی تعداد بہتر(٧٢) تھی اُن کے رُفقاء اور معاون جو مدینہ طیبہ میں تھے وہ چند سو سے زیادہ نہ تھے مختصر یہ کہ زیادہ سے زیادہ پانچ سو اَفراد ہوں گے جو مدینہ طیبہ میں اِس تحریک کے ذمہ دار تھے اُن میں سے غریب اور تہی دست بھی تھے ،جو صاحب ِ حیثیت تھے اُن کے پاس نہ کوئی کارخانہ تھا نہ کوئی تجارتی منڈی تھی ، نہ صنعت و حرفت کا کوئی سلسلہ تھا، صرف کاشتکار تھے جن کے پاس زراعت کے لیے تھوڑی تھوڑی زمینیں تھیں یا کھجوروں کے باغات تھے۔ ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا تو کم و بیش ایک سو اَفراد بہت تھوڑے عرصہ میں مدینہ پہنچ گئے اُن میں سے بہت سے وہ تھے جواپنے وطن مکہ میں اچھی خاصی حیثیت رکھتے تھے لیکن جس صورت سے اُن کو وطن (مکہ) چھوڑنا پڑ رہا تھا وہ حد درجہ خطرناک تھی اُن کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے ساتھ وہ سرمایہ لا سکیں پوری رازداری کے ساتھ چھپ کر نکل آنا ہی بہت بڑی کامیابی تھی۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جومکہ کے ایک رئیس گھرانے کے ایک فرد تھے اُن کے اِرادہ ٔ ہجرت کاپتہ چل گیا تو خاندان کے آدمیوں نے اُنہیں گرفتار کر لیا اُنہوں نے اِنتہائی عاجزی وزاری کی تو اِس شرط پر یہ روانہ ہو سکے کہ اپنے سرمائے میں سے اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جائیں گے۔ مہاجرین کے سلسلے میں صرف مکہ ہی کے حضرات نہیں تھے بلکہ جب مدینہ طیبہ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی تو اگر چہ تعداد کتنی ہی تھوڑی تھی مگر اُن سب کے لیے پناہ گاہ بن گئی تھی جو مختلف قبائل کے اندر اِکا دُکاّ اِسلام سے مشرف ہو چکے تھے یہ حضرات بھی مدینہ طیبہ پہنچنے لگے۔ اِقتصادیات کے ماہرین کے لیے ایک نہایت دلچسپ سوال ہے کہ اِن بے روزگاروں کے لیے روزگار کی کیا شکل کی جائے ؟ اُن کاتقدس اِس کی اِجازت نہیں دیتا کہ کسی کے ایک پیسے پر بھی نظر ڈالیں خود تہی دست ہیں ذریعہ معاش کوئی نہیں خود مدینہ میں ایک کافی تعداد بڑے لوگوں کی ہے جو صاحب ِدولت ہیں لیکن مسلمان نہیں ہوئے، مدینہ کے آس پاس یہودیوں کے قبیلے ہیں وہ بہت خوش حال بڑے دولت مند اُن کی تجارتی کوٹھیاں بھی ہیں اور اُن کے پاس تجارتی منڈیاں بھی لیکن اُن کے