Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

192 - 689
(١٠١٣)واذا وجدت محرما لم یکن للزوج منعہا ) ١ وقال الشافعی لہ ان یمنعہا لان فی الخروج تفویت حقہ ٢ ولنا ان حق الزوج لا یظہر فی حق الفرائض والحج منہا حتی لو کان الحج نفلا لہ ان 

فی المرأة تحج بغیر محرم ص ٢٤٩ نمبر ١٧٢٦)  اس حدیث میں ہے کہ تین دن سے زیادہ بغیر محرم کے سفر نہ کرے ، اس کا مطلب ہوا کہ تین دن سے کم کا سفر کر سکتی ہے ۔
ترجمہ:  (١٠١٣)  اگر عورت نے محرم پا یا تو شوہر کے لئے حج سے روکنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ 
تشریح : اگر عورت کے پاس حج کے اخراجات ہیں اور شوہر کے علاوہ محرم بھی ہے تو اگر حج فرض ہے تو شوہر کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کو حج سے روکے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ  حج فرض ہے اس لئے اس سے روکنے کی گنجائش نہیںہے ، ہاں نفلی حج میں اپنے حق کے لئے روک سکتا ہے ۔
وجہ :  (١)  عن ابی ھریرة أن رسول اللہ  ۖ قال : لا تمنعوا اماء اللہ  مساجد اللہ و لکن لیخرجن و ھن تفلاة ۔( ابو داود شریف ، باب ما جاء فی خروج النساء الی المساجد ، ص ٨٣، نمبر ٥٦٥) اس  حدیث میں ہے کہ عورتوں کو مسجدوں سے مت ر وکو، اور حج میں بھی مسجد حرام میں جا نا ہے اس لئے حج فرض کے لئے روکنا جائز نہیں ۔(٢) فرائض میں شوہر کو روکنے کا حق نہیں ہے ۔ 
ترجمہ :  ١  امام شافعی  نے فر ما یا کہ شوہر کے لئے جائز ہے کہ عورت کو روک دے اس لئے کہ حج کے لئے نکلنے میں اس کے حق کو فوت کر نا ہے ۔ 
تشریح :  امام شافعی  فر ما تے ہیں کہ چاہے فرض حج ہو اس کے با وجود شوہر روکنا چاہے تو روک سکتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ حج کے لئے جائے تو اس کا حق فوت ہو گا ، اور حج عمر بھر میں کبھی بھی جا سکتی ہے اس لئے اس وقت اسکے حق کی وجہ سے جا نا ضروری نہیں ہے ۔ مو سوعہ کی عبارت یہ ہے ۔ قال و اذا بلغت المرأة قادرة بنفسھا و ما لھا علی الحج فأراد ولیھا منعھا من الحج أو اراد ہ زوجھا منعھا منہ مالم تھل بالحج ، لانہ فرض بغیر وقت الا فی العمر کلہ ۔ ( موسوعة امام شافعی  ، باب حج المرأة و العبد ، ج خامس، ص ٤٠، نمبر ٥٢١٨) اس عبارت میں ہے کہ پوری عمر حج کا وقت ہے اس لئے شوہر کو اس کے روکنے کا حق ہے ۔  
 ترجمہ:  ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ شوہر کا حق فرائض کے حق میں ظاہر نہیں ہو گا ، اور حج فرائض میں سے ہے یہاں تک کہ اگر حج نفل ہو تو اس کو روکنے کا حق ہے ۔  
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے کہ شوہر کا حق ضرور ہے لیکن اپنے حقوق کے لئے  فرائض سے روکنے کا حق شوہر کو نہیں ہے ، اور یہ حج فرض ہے اس لئے اس کو اس سے روکنے کا حق نہیں ہے ۔البتہ نفلی حج ہو تا تو شوہر کو روکنے کا حق ہو تا ۔

Flag Counter