Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

156 - 689
 ٢  والفرق لابی حنیفة وہو ظاہر الرواےة ان بنفس الشروع فی الصوم یسمی صائما حتی یحنث بہ الحا لف علی الصوم فیصیر مرتکبا للنہی فیجب ابطالہ فلا تجب صیانتہ ووجوب القضاء یبتنی علیہ 
٣   ولا یصیر مرتکبا للنہی بنفس النذر وہو الموجب ٤  ولابنفس الشروع فی الصلوٰة حتی یتم رکعةً ولہٰذا لا یحنث بہ الحالف علی الصلوٰة فتجب صیانة المؤدّی ویکون مضمونا بالقضاء  

اس کو توڑ دیا تو اسکی قضاء واجب ہو نی چاہئے۔
ترجمہ:  ٢  امام ابو حنیفہ  کی ظاہر روایت ہے اور ان کے لئے فرق یہ ہے کہ ر وزہ شروع کر تے ہی اس کو روزہ کا نام دیا جاتا ہے حتی کہ روزہ نہ رکھنے کی قسم کھانے والا اس سے حانث ہو جائے گا اس لئے نہی کا ارتکاب کر نے والا ہو گیا اس لئے اس کو باطل کر نا واجب ہو گیا اس لئے اس کی حفاظت کر نا واجب نہیں اور قضاء واجب ہو نے کا مدار اسی پر ہے ۔ 
تشریح :  امام ابو حنیفہ  کی ظاہر روایت یہ ہے کہ یوم النحر میں روزہ رکھ کر توڑ دینے سے روزے کی قضا لازم نہیںہو گی ، اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ روزے کا حال یہ ہے کہ روزے کی نیت کر تے ہی روزہ شروع ہو جا تا ہے اور اس کو روزہ شمار کیا جا نے لگتا ہے ، چنانچہ کوئی قسم کھائے کہ میں روزہ نہیں رکھوں گا اور صبح کھا یا پیا نہیں تھا اور روزے کی نیت کر لی  تو روزے کی نیت کر تے ہی روزہ رکھنے والا ہو جائے گا اور قسم میں حانث ہو جائے گا ، اور حدیث میں یوم النحر میں روزہ رکھنے سے منع فر ما یا ہے اس لئے روزہ کی نیت کرتے ہی گو یا کہ معصیت اور گناہ کا کام شروع ہو گیا اس لئے اس کی حفاظت کر نا ٹھیک نہیں اور جب اس کی حفاظت کر نا ٹھیک نہیںتو اس کی قضاء بھی لازم نہیں ہو گی کیونکہ حفاظت کے لئے ہی قضاء لازم کی جا تی ہے ۔
 ترجمہ:  ٣  اور نفس نذر سے نہی کا مرتکب نہیں ہو گا اور نذر ہی روزہ واجب کر نے والی ہے۔
تشریح :  یہ عبارت امام ابو یوسف  کو جواب ہے ۔  یوم النحر میں روزہ شروع کرے اور اس کو توڑ دے تو اسکی قضاء واجب نہیں ، اور یوم النحر میں روزے کی نذر مانے تو اس دن روزہ نہ رکھے لیکن بعد میں اس کی قضاء کرے تو ان دو نوں میں کیا فرق ہے اس کو بیان کر رہے ہیں ، کہ یوم النحر میں نذر ما ننا کوئی برا نہیں ہے کیونکہ  روزہ تو عبادت ہے اور نذر سے روزہ لازم ہو تا ہے اس لئے نذر کی وجہ سے روزہ لازم ہو جائے۔ اور یوم النحر میں روزہ رکھنا حدیث کی بنا پرنا جائز ہے اور نیت کرتے ہی روزہ شروع ہو جائے گا اس لئے اس کو بند کر نا ضروری ہے ، اور جب ابھی بند کر نا ضروری ہے تو اس کی قضاء بھی لازم نہیں ہو گی ، کیونکہ قضاء اس کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے ۔ 
ترجمہ: ٤  اور نماز کے صرف شروع کر نے ہی سے اس کی قضاء لازم نہیں ہو گی جب تک ایک رکعت نہ پوری ہو جائے ، اسی لئے نماز نہ پڑھنے کی قسم کھا نے والا حانث نہ ہو گا اس لئے جتنا ادا کیا اس کو بچا نا واجب ہے اور اس کی وجہ سے قضاء کر نے کا ضامن ہے ۔ 

Flag Counter