Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

155 - 689
(٩٩٥)  ومن اصبح یوم النحر صائما ثم افطر لا شیٔ علیہ) ١  وعن ابی یوسف ومحمد  فی النوادران علیہ القضاء لان الشروع ملزم کالنذر وصار کالشروع فی الصلوٰة فی الوقت المکروہ

وجہ : اس حدیث میں ہے کہ نذر سے یمین مراد لی تو اس کے ٹوٹنے پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا ۔ عن ابن عباس ان رسول اللہ  ۖ قال : ....ومن نذر نذر ا لا یطیقہ فکفارتہ کفارة یمین و من نذر نذر اطاقہ فلیف بہ ( ابو داود شریف ، باب من نذر نذر ا لا یطیقہ ، ص٤٨٤، نمبر ٣٣٢٢ ابن ماجة شریف ، باب من نذر نذر ا لم یسمہ ص ٣٠٥، نمبر ٢١٢٨) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی قسم کے کفارے کی طرح ہے ۔ قسم کا کفارہ یہ ہے ۔۔لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرة مساکین من اوسط ما تطعمون اھلیکم او کسوتھم او تحریر رقبة فمن لم یجد فصیام ثلاثة ایام ذلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم (آیت ٨٩ سورة المائدة ٥)  اس آیت میں ہے کہ قسم ٹوٹنے پر دس مسکین کو کھا نا کھلائے ، یا غلام آزاد کرے اور وہ نہ ہو سکے تو تین دن روزے رکھے ۔
ترجمہ:  (٩٩٥) کسی نے ذی الحج کی دسویں تاریخ کو صبح سے روزہ شروع کیا پھر روزہ توڑ دیا تو اس پر قضاء وغیرہ کچھ نہیں ہے ۔
تشریح :  ذی الحجہ کی دسویں تاریح جسکو یوم النحر کہتے ہیں اس دن میں روزہ رکھنا منع ہے، کسی نے اس دن صبح سے نفلی روزہ شروع کیا اور بعد میں روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء واجب ہے یا نہیں اس بارے میں یہ مسئلہ ہے ۔ تو متن میں یہ فر ما تے ہیں کہ اس پر کچھ نہیں ہے ، یعنی اس  روزہ کی قضاء کر نا واجب نہیں ہے ۔
وجہ :  (١) اس کی وجہ یہ فر ما تے ہیں کہ نیت کر تے ہی روزہ شروع ہو جا تا ہے اور یوم النحر میں حدیث کی وجہ سے روزہ رکھنا ممنوع ہے اس لئے اس کو باطل کر نا چاہئے اسکی حفاظت نہیں کرنی چاہئے اور قضاء اس کی لازم ہو تی ہے جسکی حفاظت کر نا مقصود ہو اور یہاں اس روزہ کو باطل کر نا مقصود ہے اس لئے اس کی قضاء لازم نہیں ہو گی ۔عام دنوں میں نفلی روزہ شروع کرے پھر اس کو توڑ دے تو اسکی قضاء اس لئے لازم ہو تی ہے کہ اس کی حفاظت کر نا مقصود ہے ۔ 
ترجمہ:  ١  امام ابو یوسف  اور امام محمد  سے نوادر میں روایت ہے کہ اس پر قضاء ہے ، اس لئے کہ روزے کو شروع کر نا روزے کو لازم کر نے والی چیز ہے ، جیسے کہ نذر ماننا روزے کو لازم کر نے والی چیز ہے ، اور ایسا ہو گیا جیسا کہ مکروہ وقت میں نماز شروع کی ۔ 
تشریح :نوادر میں امام ابو یوسف  اور امام محمد  کی روایت ہے کہ جس نے یوم النحر میں روزہ شروع کیا اور توڑ دیا تو اس کی قضاء واجب ہے۔
وجہ :  (١) اس کی ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ کسی نے یوم النحر میں روزے کی نذر مانی تو اس دن روزہ نہ رکھے لیکن دوسرے دن اسکی قضاء واجب ہے ، اسی طرح اس دن روزہ شروع کیا اور توڑ دیا تو اس کی قضاء واجب ہے ۔ (٢) دوسری دلیل یہ دیتے ہیں کہ اوقات مکروہ میں نماز شروع کی او راس کو توڑ دیا تو اس کی قضاء واجب ہوتی ہے اسی طرح مکروہ دن میں یعنی یوم النحر میںروزہ شروع کیا اور 

Flag Counter