Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

154 - 689
کان النھ ٥ بخلاف ما اذا عینہا٦   لانہ التزم بوصف النقصان فیکون الاداء بالوصف الملتزَم (٩٩٤) قال وعلیہ کفارة یمین ان ارادبہ یمینا )١    وقد سبقت وجوہہ 

تشریح :  امام شافعی  کی جانب سے وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ ان دنوں میں حدیث کی وجہ سے روزہ رکھنا معصیت ہے ، اور اما شافعی  کا قاعدہ یہ ہے کہ معصیت کے ساتھ نذر ہی منعقد نہیں ہو گی اس لئے ان دنوں کی نذر ہی منعقد نہیں ہو گی اسلئے بعد میں ان دنوں کی قضاء کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور ہم نے اس کا عذر یہ پیش کیا تھا کہ روزہ بنفسہ عبادت ہے  اس لئے کہ اس کی نذر ماننا درست ہے  البتہ اللہ کی دعوت کی وجہ سے اس دن روزہ رکھنا ممنوع ہے اس لئے بعد میں اس کی قضاء کرے ۔ 
ترجمہ : ٥  ]٣[ اور اگر پے در پے روزہ رکھنے کی شرط نہیں کی تو ان دنوں میں روزہ جائز نہیں ہے اس لئے اصل اس میں یہ ہے کہ کامل روزہ لازم کیا اور جو ادا کیا جا رہا ہے وہ حدیث میں روکنے کی وجہ سے ناقص ہے ]اس لئے ان دنوں میں روزہ ادا نہیں ہو گا [
 تشریح :  نذر ما ننے کی تیسری صورت یہ ہے کہ تین سو چون دن یعنی ایک سال کے روزے کی نذر مانی لیکن پے در پے روزے رکھنے کی شرط نہیں کی اس لئے تمام روزے کامل لازم ہو ئے اس لئے ان پانچ دنوں میں روزے نہ رکھے اس لئے کہ ان میں حدیث میں روکنے کی وجہ سے ناقص روزے ادا ہو تے ہیں  اس لئے بعد میں انکی قضاء کرے اور اگر رکھ لیا تب بھی ادا نہیں ہو ںگے ۔ اسی طرح رمضان کے روزوں سے اس نذر کی ادائیگی نہیں ہو گی اس لئے رمضان کے تیس روزے بھی بعد میںقضاء کرے ، دو نوں کو ملاکر ٣٥ روزے بعد میں قضاء کرے۔
ترجمہ:  ٦  بخلاف جبکہ سال کو متعین کیا اس لئے کہ نقصان کے وصف کے ساتھ لازم کیا اس لئے ادا لازم کئے ہوئے وصف کے ساتھ ہی ہو جائے گا 
تشریح :  اگر  سال کو متعین کر کے یوں نذر مانی کہ اس پورے سال کا روزہ رکھوں گا تو ایام منہیہ کی بھی نذر ہو گئی اور ایام منہیہ کی نذر ناقص ہو تی ہے اس لئے جیسی لازم کی ویسی ہی ادا کر دی تو ادا ہو جائے گی ، اگر چہ بہتر یہ تھا کہ بعد میں اس کی قضاء کر تا ۔
لغت:  وصف الملتزم : جیسی لازم کی اس وصف کے ساتھ ادا کر دی ، یعنی نقصان کے ساتھ ادا کر دی ۔  
ترجمہ  (٩٩٤) اگر اوپر کے جملے سے قسم کا ارادہ کیا تو نہ کر نے پر اس پر قسم کا کفارہ ہے ۔
ترجمہ:   ١  اور اس کی وجہ پہلے گزر چکی ۔ 
 تشریح :  للہ علی صوم ھذہ السنة ۔کہ مجھ پر اس سال کا روزہ ہے، کا جملہ بو لا تو اس کا حقیقی معنی نذر ہے ، لیکن اگر  للہ کو باللہ کے معنی میں لیا اور مجازی معنی مراد لیکر قسم کا ارادہ کیا تو قسم منعقد ہو جائے گی اور اس دن روزہ ، یعنی ایام منہیہ میںروزہ نہیں رکھا تو چونکہ قسم ٹوٹ گئی اس لئے اس کا کفارہ لازم ہو گا ۔   

Flag Counter