٢ وکذا اذا لم یعین لکنہ شرط التتابع لان المتابعة لا تعری عنہا لکن یقضیہا فی ہذا الفصل موصولة تحقیقا للتتابع بقدر الامکان٣ ویتاتی فی ہٰذا خلاف زفر والشافعی للنہی عن الصوم فیہا وہو قولہ علیہ السلام الا لاتصوموا فی ہٰذہ الایام فانہا اَےَّام اکل وشرب وبعال وقد بینا الوجہ فیہ والعذرعنہ ٤ ولو لم یشترط التتابع لم یُجزہ صوم ہٰذہ الایام لاٰن الاصل فیما یلتزمہ الکمال والمؤدی ناقص لم
ترجمہ: ٢ ]٢[ ایسے ہی اگر سال متعین نہیں کیا لیکن پے در پے کی شرط لگائی ]تو ایام منہیہ کا روزہ لازم ہو گا [ اس لئے کہ سال کا پے درپے ایام منہیہ سے خالی نہیں ہو گا ، لیکن اس صورت میں اس کو بعد میںمتصلا قضاء کرے بقدر امکان پے در پے کو ثابت کر نے کے لئے ۔
تشریح : یہ دوسری صورت ہے کہ کسی سال کو تو متعین نہیں کیا لیکن تین سو چون دن میں پے در پے روزے رکھنے کی نذر مانی اس لئے ایام منہیہ سے خالی نہیں ہو گی وہ تو ضرور درمیان سال میں آئیں گے اور ان دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ ہے اس لئے ان دنوں کی قضاء بعد میں کرے لیکن ان دنوں کے پورے ہو نے کے بعد فورا متصلا قضاء کرے تا کہ بقدر امکان اسکی نذر کے مطابق اتصال ہو جائے ۔
لغت : لاتعری : خالی نہیں ہے۔ ھذا الفصل : اس صورت میں ۔
ترجمہ: ٣ اس صورت میں امام زفر اور امام شافعی کا اختلاف راہ پاسکتا ہے ]یعنی نذر نہیں ہو گی [ ان دنوں میں روزے سے منع کر نے کی وجہ سے ، اور وہ حضور علیہ السلام کا قول ہے کہ ان دنوں میں روزہ نہ رکھو اس لئے کہ کھانے پینے اور صحبت کر نے کے دن ہیں
تشریح : امام زفر اور امام شافعی کے نزدیک ان دنوں میں نذر ہی منعقد نہیں ہو گی اس لئے کہ حدیث میں منع فر ما یا ، اس لئے بعد میں ان دنوں کی قضاء کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صاحب ھدایہ کی پیش کردہ حدیث ان دو حدیثوں کا مجموعہ ہے ۔ شھدت العید مع عمر بن الخطاب فقال ھذان یومان نھی رسول اللہ ۖ عن صیامھما یوم فطرکم من صیامکم و الیوم الآخر تأکلون فیہ من نسککم ۔(بخاری شریف ، باب صوم یوم الفطر ، ص ٣٢٠، نمبر ١٩٩٠ مسلم شریف ، باب تحریم صوم یومی العیدین ، ص ٤٦٤، نمبر ١١٣٧ ٢٦٧١) دوسری حدیث یہ ہے ۔ عن نبیشة الھذلی قال قال رسول اللہ ۖ ایام التشریق أیام أکل و شرب( مسلم شریف ، باب تحریم صوم یومی العیدین ، ص ٤٦٤، نمبر ٢٦٧٧١١٤١) اس حدیث میں ہے کہ عید بقرعید اور ایام تشریق کے دن کھا نے پینے کا دن ہیں۔۔ تشریق کا معنی ہے گوشت کو کاٹ کر سکھا نا ، ان دنوں میں قربانی کا گوشت کاٹ کر سکھاتے ہیں اس لئے ان کو ایام تشریق کہتے ہیں ۔
ترجمہ : ٤ اور اس کے بارے میں وجہ بیان کر دی ہے اور اسکے لئے عذر بھی بیان کیا ہے ۔