Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

152 - 689
جائے گا ۔کیونکہ ناقص روزے کی نذر مانی تو ناقص ہی ادا کر دی ۔  
]٢[ دوسری صورت یہ ہے کہ تین سو چون دن کے روزے کی نذر مانی جو قمری ایک سال ہو تا ہے اور یہ بھی نذر مانی کہ یہ تین سو چون دن مسلسل رکھوں گا تو ظاہر بات ہے کہ اس میں ایام منہیہ کے پانچ دن بھی ضرور آئیں گے تو گویا کہ ان پانچ دنوں کی بھی نذر مانی اس لئے ان پانچ دنوں میں روزہ نہ رکھے اور بعد میں قضا کر لے اور اگر ان دنوں میں روزہ رکھ لیا تو ناقص نذر مانی اس لئے ناقص ہی ادا ہو جائیں گے ۔چونکہ مسلسل روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اس لئے تین سو انچاس روزے پورے ہو نے کے بعد ساتھ ہی یہ پانچ روزے رکھ لے تا کہ حتی الامکان مسلسل ہو جائے ۔ اور رمضان کے روزے جو درمیان میں آئیں گے وہ رمضان میں ہی ادا ہو جائیں گے اس کو بعد میں رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ رمضان کے روزے بعد میں مشکل ہی سے ادا ہو تے ہیں۔
ان دو نوں صورتوں میں ایام منہیہ کی بھی نذر ہو رہی ہے اس لئے امام زفر  اور امام شافعی  کے نزدیک ان دنوں کی نذر ہی نہیں ہو گی اس لئے ان دنوں کی بعد میں قضاء کر نے کی ضرورت نہیں۔ 
]٣[ تیسری صورت یہ ہے کہ تین سو چون دن کے روزے کی نذر مانی جو قمری ایک سال ہو تا ہے لیکن یہ نذر نہیں مانی کہ مسلسل رکھوں گابلکہ کبھی رکھوں گا کبھی نہیں رکھوں گا تو اس صورت میں تمام روزے کامل لازم ہوئے اس لئے ایام منہیہ میں روزہ نہ رکھے بلکہ ان دنوں کی قضاء بعد میں کرے کیونکہ ان دنوں میں روزے ناقص ادا ہو تے ہیں ، اور  نذر کی وجہ سے روزے کامل لازم ہوئے ہیں اس لئے ان دنوں میں ادا کر نے سے ادا نہیں ہو ں گے ۔ اور رمضان کے تیس روزے بھی الگ سے لازم ہو نگے اور بعد میں اسکی قضاء کر نی ہو گی ، کیونکہ رمضان کے روزے کے تحت انکی ادائیگی نہیںہو گی ، اس لئے کہ یہ الگ سے ایک سال کے روزے ہیں جو تین سو چون دن ہو تے ہیں ۔    

(نذر ماننے کی تین صورتیں ایک نظر میں )
نمبر
نذر ماننے کی تین صورتیں 
حکم 
ان دنوں میں ادا ہو گی یا نہیں 
(١)
(٢)

(٣)
متعین کر کے پورے ایک سال کے روزے کی نذر مانی  
کسی ایک سال کے روزے کی نذر ما نی ، لیکن پے در پے ایک سال 
 کسی ایک سال کے روزے کی نذر مانی ، لیکن پے در پے نہیں 
بعد میں ان پانچ دنوں کی قضاء کرے 
متصلا ان پانچ دنوں کی قضاء کرے 
 
رمضان اور ان دنوں کی قضاء کرے 
 ادا ہو جائے گی 
ادا ہو جائے گی 

بعد میں قضاء کرے 

Flag Counter