جمعنا بین جہتی التبرع والمعاوضة فی الہبة بشرط العوض(٩٩٣) ولو قال ﷲ علیَّ صوم ہذہ السنة افطر یوم الفطر ویوم النحر وایام التشریق وقضاہا ) ١ لان النذر بالسنة المعینة نذر بہذہ الایام
تشریح : امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ اس کلام میں حقیقت اور مجاز دو نوں کا مفہوم ایک ہی ہے دو نوں میں کوئی تنافی نہیں ہے اور دو نوں کا مفہوم ہے بندے پر روزہ واجب کر نا ، بس فرق یہ ہے کہ نذر کا حقیقی معنی وجوب کا ہے اور قسم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کے پاک نام کو توہین سے بچانا ہے اس لئے بندے پر روزہ واجب کر تے ہیں اس لئے یہاں ایک ہی کلام میں دو نوںکا جمع ہو نا ممنوع نہیں ہے ۔ اس کی ایک مثال دیتے ہیں کہ کوئی کسی چیز کو ہبہ کرے اور شرط لگائے کہ اتنے درہم دو تو ہبہ کر تا ہوں تو یہ لفظ کے اعتبار سے ہبہ ہے اور تبرع اور احسان ہے لیکن درہم کے بدلے کی شرط کی وجہ سے معاوضہ اور بیع بھی ہو گیا اور دونوں جمع ہو گئے اسی طرح یہاں بھی نذر اور قسم جمع ہو گئے ، ہاں دو نوں کا مفہوم بالکل مخالف ہو تا تو جمع کر نا نا ممکن ہو تا ۔
ترجمہ: (٩٩٣) اگر کہا کہ اللہ کے لئے مجھ پر اس سال کے روزے ہیں تو عید الفطر کے دن ، اور بقرعید کے دن اور ایام تشریق میں روزہ نہ رکھے اور ان دنوں کی قضاء کرے ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ پورے متعین سال کی نذر ما ننے سے ان دنوں کی بھی نذر ما ننا ہے ۔
تشریح : ایام منہیہ : ]١[عید الفطر ]٢[ ذی الحجة کی دسویں تاریخ جسکو بقرعید کا دن کہتے ہیں ]٣[ ذی الحجة کی گیارویں ]٤[ذی الحجہ کی بارویں ]٥[ ذی الحجة کی تیرویں تاریخ جنکو ایام تشریق کہتے ہیں ۔ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے حدیث میں منع فر ما یا ہے اس لئے ان کو ایام منہیہ کہتے ہیں
یہ مسئلہ دو اصولوں پر ہے ۔ ایک اصول یہ ہے کہ ایام منہیہ کے دنوں میں روزہ رکھنے سے حدیث میں منع فر ما یا ہے اس لئے اگر متعین طور پر ان دنوں کے روزے کی نذر مانی تو نذر ہو جائے گی لیکن اسکو بعد میں قضاء کر نی چاہئے ، لیکن اگر ان دنوں میں روزہ رکھ ہی لیا تو ناقص روزے کی نذر مانی تھی اس لئے جیسی نذر مانی ویسی ہی ادا کر دی تو ادا ہو جائے گی ۔
اور دو سرا اصول یہ ہے کہ اگر مطلق ایک سال یعنی تین سو چون دن کے روزے کی نذر ما نی تو ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے ادا نہیں ہو گا ، اس لئے کہ نذر کامل روزے کی کی ہے اور ان دنوں میں ناقص روزہ رکھ کے ادا کر رہا ہے اس لئے ادا نہیں ہو گا ۔
تشریح: مسئلہ یہ ہے ۔کسی نے نذر مانی ۔للہ علی صوم ھذہ السنة ۔کہ مجھ پر اس سال کا روزہ ہے ۔تو اس جملہ کی تین صورتیں ہیں ۔
]١[ ایک تو یہ کہ متعین کر کے یہ نیت کی کہ اس پورے سال کے روزے کی نذر مانتا ہوں اس صورت میں ایام منہیہ کے دنوں کے روزے کی بھی نذر ہو گئی اور اس میں روزہ رکھنا ممنوع ہے اس لئے بعد میں قضاء کرے اور اگر روزہ رکھ ہی لیا تو روزہ ناقص طور پرادا ہو