٣ لابی یوسف ان الندر فیہ حقیقة والیمین مجاز حتی لا یتوقف الاول علی النےة ویتوقف الثانی فلا ینتظمہما ثم المجاز یتعین بنےةٍ وعند نیتہما تترجح الحقیقة ٤ ولہما انہ لا تنافی بین الجہتین لانہما یقتضیان الوجوب الا ان النذر یقتضیہ لعینہ والیمین لغیرہ فجمعنا بینہما عملا بالدلیلین کما
(نذر اور قسم کی چھ صورتیں ایک نظر میں )
نمبر
نذر اور قسم کی نیت کر نے کی قسمیں
حکم
امام ابو یوسف کے نزدیک
(١)
(٢)
(٣)
(٤)
(٥)
(٦)
نہ نذر کی نیت کی اور نہ قسم کی نیت کی
نذر کی نیت کی اور اس کے علاوہ کوئی نیت نہیں کی
نذر کی نیت کی اور یہ بھی نیت کی کہ قسم نہ ہو
قسم کی نیت کی اور یہ بھی نیت کی کہ نذر نہ ہو
نذر کی بھی نیت کی اور قسم کی بھی نیت کی
قسم کی نیت اور کوئی نیت نہیں کی
نذر ہو گی
نذر ہو گی
نذر ہو گی
قسم ہو گی
نذر بھی ہو گی اور قسم بھی ہو گی
نذر بھی ہو گی ، اور قسم بھی ہو گی
صرف نذر ہو گی
صرف قسم ہو گی
ترجمہ: ٣ امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ اس کلام میں نذر حقیقی معنی ہے اور قسم مجازی معنی ہے یہی وجہ ہے کہ نذر کا ہو نا نیت پر مو قوف نہیں اور دوسرا یعنی مجازی معنی نیت پر مو قوف ہے اس لئے ایک ہی کلام میں دو نوں شامل نہیں ہو نگے ، پھر مجاز نیت کر نے پر متعین ہو گا ، اور دو نوں کی نیت کے وقت حقیقت کو ترجیح ہو گی ۔
تشریح : للہ علی صوم یوم النحر: یہ عبارت بول کرقسم کی نیت کی اور کوئی نیت نہیں کی اور نہ نذر کی نفی کی تو امام ابویوسف کے یہاں صرف قسم ہو گی نذر نہیں ہو گی ، اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اس عبارت میں نذر کا معنی حقیقی ہے یہی وجہ ہے کہ اس عبارت کو بول کر کچھ بھی نیت نہ کی ہو تب بھی نذر منعقد ہو جائے گی ، اور اس کلام میں قسم کا معنی مجازی ہے ، یہی وجہ ہے کہ قسم کی نیت کرے گا تو قسم ہو گی ورنہ نہیں ، اور یہ بھی معلوم ہے کہ حقیقت اور مجاز ایک کلام میں جمع نہیں ہو سکتا اس لئے اگر دو نوں کی نیت کی تو مجازی معنی یعنی قسم نہیں ہو گی بلکہ حقیقی معنی یعنی نذر منعقد ہو گی اور حقیقت کو ترجیح دی جائے گی ۔
ترجمہ: ٤ امام ابو حنیفہ : اور امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ نذر اور قسم دو نوں جہت میں کوئی تنافی نہیں ہے اس لئے کہ دو نوں وجوب کا تقاضائکر تے ہیں یہ اور بات ہے کہ نذر اپنے عین معنی کی وجہ سے وجوب کا تقاضاء کر تی ہے ، اور قسم غیر یعنی مجازی معنی کے اعتبار سے وجوب کا تقاضاکر تی ہے ، اس لئے دو نوں کی دلیلوں پر عمل کر تے ہوئے دو نوں کو ہم نے جمع کر دیا، جیسا کہ ہبہ معاوضہ کی شرط پر ہو تو تبرع اور معاوضہ دو نوں کو جمع کر دیا