نذر ]٦[اولو نوی الیمین فکذلک عندہماوعندہ یکون یمینا
قسم دو نوں ہونگی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر چہ ایک حقیقت اور ایک مجاز ہے لیکن یہاں حقیقت اور مجاز ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہے بلکہ دو نوں کا مفہوم ہے بندے پر روزے کو لازم کر نا اس لئے دو نوں مراد لئے جا سکتے ہیں ، اس مقام پر حقیقت اور مجاز کو جمع کر نا نا ممکن ہو تا ہے جہاں دو نوں کا مفہوم ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہو، یہاں دو نوں کا مفہوم ایک ہے اس لئے دو نوں مراد لئے جا سکتے ہیں ، جسکا حاصل یہ ہو گا کہ یوم النحر میں روزہ نہ رکھنے پر نذر کی وجہ سے قضاء لازم ہو گی اور قسم کی وجہ سے کفارہ لازم ہو گا ۔
امام ابو یوسف فر ما تے ہیں کہ دونوں کی نیت کی ہے اس لئے اس صورت میں حقیقت اور مجاز جمع ہو جائیںگے اور منطق کے قاعدے کے اعتبار سے یہ ٹھیک نہیں ہے ، اس لئے اس عبارت کا جو حقیقی معنی ہے یعنی نذر وہی مراد لی جائے اور صرف قضاء لازم کروائی جائے ، اور مجازی معنی یعنی قسم مراد نہ لی جائے ، تاکہ حقیقت اور مجاز کا جمع ہو نا لازم نہ آئے ۔
]٦[ اور اگر قسم کی نیت کی اور بس تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک ایساہی ہو گا یعنی قسم اور نذر دو نوں ہونگی ۔اور امام ابو یوسف کے نزدیک صرف قسم ہو گی
:۔اور چھٹی صورت یہ ہے کہ اس عبارت سے قسم کی نیت کرے اور نذر کے بارے میں نہ نفی کرے اور نہ ہاں کرے ۔ تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک نذر بھی ہو گی اور قسم بھی ہو گی ۔
وجہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ نذر اس لئے ہو گی کہ وہ اس کی حقیقی معنی ہے اور حقیقی معنی مراد لینے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں پڑتی ، اور چونکہ نذر کی نفی نہیں کی ہے اس لئے بغیر نیت کے بھی نذر ہو جائے گی ، اور چونکہ قسم کی با ضابطہ نیت کی ہے اس لئے قسم بھی ہو گی ۔ اور پہلے گزر چکا ہے کہ یہاں حقیقی معنی اور مجازی معنی کے درمیان اختلاف نہیں ہے اس لئے دو نوں مراد لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
امام ابو یوسف کے یہاں اس صورت میں صرف قسم ہو گی ، نذر نہیں ہو گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انکے یہاں دو نوں تو مراد لے نہیں سکتے ورنہ حقیقت اور مجاز کا جمع ہو نا لازم آئے گا ۔ اور نیت کی ہے اس نے قسم کی جو مجاز ی معنی ہے ،اور نذر کے بارے کچھ بولا ہی نہیں اس لئے قسم ہی مراد لی جائے ،نذر مراد نہ لی جائے ۔
اصول : امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے یہاں حقیقت اور مجاز کے مفہوم میں اختلاف نہ ہو تو دونوں ایک عبارت میںجمع ہو سکتے ہیں۔
اصول : امام ابو یوسف کے نزدیک چاہے دو نوں کا مفہوم ایک ہو پھر بھی حقیقت اور مجاز ایک عبارت میں جمع نہیں ہو سکتے ۔