Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 3

147 - 689
(٩٩٢) کما التزمہ وان نوی یمینا فعلیہ کفارة یمین)  ١    یعنی اذا افطر  ٢ وہذہ المسألہ علیٰ وُجوہ ستة ]١[ان لم ینو شیئًا ]٢[ او نوی النذر ]٣[لا غیرا و نوی النذر وان لا یکون یمینا یکون نذرا لانہ نذر بصیغتہ 

تشریح :  ہماری دلیل یہ ہے کہ روزہ بنفسہ مشروع ہے اور عبادت کی چیز ہے اس لئے اسکی نذر ما ننا صحیح ہے ، لیکن اس دن میں روزہ رکھنا منع فر ما یا ہے کیونکہ اس دن اللہ تعالی کی طرف سے دعوت ہو تی ہے اس لئے غیر کی وجہ سے معصیت ہو ئی جسکو نھی لغیرہ کہتے ہیں اس لئے اس دن روزہ نہ رکھے ، البتہ چونکہ نذر ما ننے کی وجہ سے روزہ واجب ہو چکا ہے اس لئے اس کو ساقط کر نے کے لئے دوسرے دن روزہ رکھے ۔ لیکن اگر کسی نے عید اور بقرعید کے دن ہی روزہ رکھ لیا تو روزہ ادا ہو جائے گا ، کیونکہ اسی ناقص دن کی نذر ما نی تھی اس لئے جیسی نذر مانی ویسے ہی ناقص ادا کر دیا ۔ اس حدیث میں ہے کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے ۔ عن نبیشة الھذلی قال قال رسول اللہ ۖ ایام التشریق أیام أکل و شرب( مسلم شریف ، باب تحریم صوم یومی العیدین ، ص ٤٦٤، نمبر ٢٦٧٧١١٤١)  اس حدیث میں ہے کہ عید بقرعید کا دن کھا نے پینے کا دن ہے ۔
(للہ علی صوم یوم النحر۔میں نیت کر نے کی چھ صورتیں )
ترجمہ:  (٩٩٢) اگر اس لفظ سے قسم کی نیت کی تو اس پرقسم کاکفارہ ہے ۔ 
 ترجمہ:   ١  یعنی اگر روزہ توڑ دیا ۔
تشریح :  مسئلہ نمبر ٩٩١ میں یہ عبارت گزری ۔للہ علی صوم یوم النحر۔اللہ کے لئے مجھ پر یوم النحر یعنی بقرعید کے دن کا روزہ ہے تو اس عبارت میں ،للہ ، ہے اس میں لام کلمہ حقیقت میں نذر کے لئے ہے اور کبھی ،ب، کے معنی میں ہو تا ہے اور مجاز کے طور پر قسم کے لئے ہو تا ہے ۔اس صورت میں عبارت یہ ہو گی، باللہ علی صوم یوم النحر،خدا کی قسم مجھ پر بقرعید کے دن کا روزہ ہے ۔ البتہ یہ مجاز ہے ۔
نذر اور قسم میں فرق :۔نذر ماننے کی صورت میں روزہ رکھنا واجب ہو گا اور بقرعید کے دن روزہ نہیں رکھ سکے گا تو اس کی قضاء واجب ہو گی ، کفارہ لازم نہیں ہو گا ۔ اور مجازی طور پر قسم کے معنی لینے کی صورت میں اگر بقرعید کے دن روزہ نہ رکھ سکا تو قسم کا کفارہ لازم ہو گا ، نذر اور قسم میں یہ فرق ہے ۔بعض مرتبہ ایسا بھی ہو تا ہے کہ نذر بھی قسم کے معنی میں ہو تا ہے اور نذر کی صورت میں بھی نہ کر نے پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا ، اس کے لئے حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس ان رسول اللہ  ۖ قال : ....ومن نذر نذر ا لا یطیقہ فکفارتہ کفارة یمین و من نذر نذر اطاقہ فلیف بہ ( ابو داود شریف ، باب من نذر نذر ا لا یطیقہ ، ص٤٨٤، نمبر ٣٣٢٢ ابن ماجة شریف ، باب من نذر نذر ا لم یسمہ ص ٣٠٥، نمبر ٢١٢٨) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی قسم کے کفارے کی طرح ہے ۔ 
ترجمہ:  ٢   اور یہ مسئلہ چھ طریقے پر ہے ۔ 
 
Flag Counter